۱؎ اس حدیث کے چند معنی کیے گئے ہیں:ایک یہ کہ دیکھنے سے مراد ہے خواب میں دیکھنا اور حق سے مراد ہے واقعی دیکھنا باطل کا مقابل یعنی جس نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے واقعی مجھے دیکھا وہ شکل خیالی یا شیطانی نہیں میری ہے۔دوسرے یہ کہ تاقیامت جو ولی بیداری میں مجھے دیکھے گا وہ مجھ ہی کو دیکھے گا۔شیطان میری شکل میں اس کے سامنے نہ آئے گا۔بعض اولیاء بیداری میں حضور کو دیکھتے آپ سے کلام کرتے ہیں،مصافحہ و معانقہ کرتے ہیں۔شیخ ابو مسعود ہر نماز کے بعد حضور انور سے مصافحہ کرتے تھے،ابوالحسن شاذلی فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضور انور نے فرمایا اے علی اپنے کپڑے پاک رکھو،نور الدین یحیی نے روضہ انور سے جواب سلام سنا،شیخ ابوالعباس کہتے ہیں کہ اگر میں ایک ساعت بھی حضور کا جمال نہ دیکھو تو اپنے مرتد ہوجانے کا فتویٰ دوں،حضرت غوث پاک وعظ فرمارہے تھے کہ شیخ علی ابن ہیتی سامنے بیٹھے تھے کہ انہیں نیند آگئی حضور غوث پاک منبر سے اتر کر ان کے پاس باادب کھڑے ہوگئے اور حاضرین سے فرمایا با ادب رہو خاموش رہو کچھ دیر بعد علی بیدار ہوئے جناب غوث پاک نے فرمایا اے علی کیا تم نے خواب میں حضور کی زیارت کی بولے ہاں،فرمایا اس لیے میں تمہارے پاس پاس باادب کھڑا ہوگیا،فرمایا تم کو حضور نے کیا حکم دیا عرض کیا آپ کی مجلس میں حاضر رہنے کا،شیخ علی نے کہا کہ جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا جناب غوث نے بیداری میں دیکھا غرضکہ بیداری میں حضور کو دیکھنا اولیاءاللہ سے ثابت ہے یہ حدیث اس کی دلیل ہے۔(اشعۃ اللمعات) کوئی شخص اس دنیا میں آنکھوں سے بیداری میں رب تعالٰی کو نہیں دیکھ سکتا،قرآن مجید فرماتاہے:"لَا تُدْرِکُہُ الۡاَبْصٰرُ"ان آنکھوں سے رب کو صرف حضور انور نے بیداری میں دیکھا مگر زمین پر رہ کر نہیں بلکہ عرش سے ورا جاکر یعنی معراج کی رات،ہاں خواب میں رب تعالٰی کی زیارت ہوسکتی ہے بلکہ بعض خواص کو ہوئی ہے،حضور انور صبح کی نماز میں دیر سے آئے بعد نماز فرمایا میں نے رب کو اچھی صورت میں دیکھا جیساکہ ہم نے باب المساجد میں اس حدیث کی شرح میں لکھ چکے ہیں،بعض لوگ اس حدیث کے معنی یہ کرتے ہیں کہ یہاں حق سے مراد رب تعالٰی کی ذات ہے اور معنی یہ ہیں کہ جس نے مجھے دیکھا اس نے خدا تعالٰی کو دیکھ لیا کیونکہ حضور انور آئینہ ذات کبریا ہیں جیسے کہا جائے کہ جس نے قرآن مجید پڑھا اس نے رب سے کلام کرلیا یا جس نے بخاری دیکھی اس نے محمد بن اسماعیل کو دیکھ لیا اگرچہ بعض لوگ اس معنی کی تردید کرتے ہیں لیکن ہم نے جو توجیہ عرض کی اس توجیہ سے یہ معنی درست ہیں،قرآن کریم نے حضور کو ذکر اللہ فرمایا:"قَدْ اَنۡزَلَ اللہُ اِلَیۡکُمْ ذِکْرًا رَّسُوۡلًا" کیونکہ حضور کو دیکھ کر خدا تعالٰی یاد آتا ہے حضور مذکر ہیں "اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ"۔یہاں مرقات،اشعۃ اللمعات نے اس حدیث کے متعلق بڑی اعلیٰ باتیں فرمائی ہیں۔