۱؎ یعنی جو شخص خواب میں ایک شکل دیکھے اور سمجھے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں تووہ حضور اقدس ہی ہیں شیطان آپ کی شکل بن کر نہیں آیا خواہ وہ شخص حضور کو بچپن شریف کی عمر میں دیکھے یا جوانی کی عمر میں یا بڑھاپے شریف کی عمر میں۔خیال رہے کہ خواب میں حضور کا نورانی چہرہ چمکدار دیکھنا اپنے درستی عقائد کی علامت ہے اور چہرہ انور میں سیاہی دیکھنا اپنے دل کی سیاہی بدعقیدگی ہے،حضور کا لباس صاف سفید اپنے نیک اعمال ہونے کی علامت ہے،لباس مبارک کثیف دیکھنا اپنے اعمال خراب ہونے کی علامت ہے،حضور صلی اللہ علیہ و سلم آئینہ حق نما ہے آئینہ میں اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔شعر
گفت من آئینہ منقول دوست ترکی و ہندی بہ بیند آنچہ است
اگر خواب میں حضور کوئی ناجائز حکم دیں تو وہ ہمارے اپنے سننے میں فرق ہے،کسی نے خواب میں دیکھا کہ حضور فرماتے ہیں اشرب خمرا تم شراب پیو اس کی تعبیر دی گئی کہ حضور نے فرمایا ہے لا تشرب تو نے غلطی سے سن لیا اشرب یا خمر سے مراد شراب طہور شراب محبت ہے۔
۲؎ علماء فرماتے ہیں کہ شیطان خواب میں خدا بن کر آسکتا ہے مگر مصطفی بن کر نہیں آسکتا کیونکہ حضور ہادی مطلق ہیں اور شیطان مضل مطلق گمراہ گر ہادی کی شکل میں کیسے آئے ضدین جمع نہیں ہوسکتیں اللہ تعالٰی ہادی بھی ہے مضل بھی دیکھو مدعی الوہیت کے ہاتھ پر عجائبات ظاہر ہوسکتے ہیں جیسے دجال مگر مدعی نبوت کے ہاتھ پر کبھی عجائبات ظاہر نہیں ہوسکتے۔(اشعۃ اللمعات)