Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
444 - 975
حدیث نمبر 444
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اچھی خواب ۱؎ نبوت کا چھیالیسواں ہے ۲؎ (مسلم و بخاری)
شرح
۱؎ رؤیا صالحہ سے مراد سچی خواب ہے جو نہ شیطانی وسوسہ سے ہو نہ دل کے خیالات سے بلکہ خاص رحمان کی طرف سے ہو جس قدر تقویٰ اعلیٰ اس قدر خوابیں سچی ہوتی ہیں۔خیال رہے کہ کبھی کفار و فساق کی خوابیں بھی سچی ہوتی ہیں،شاہ مصر کافر تھا مگر اس نے آیندہ کے سات سال کی قحط سالی بالیوں کی شکل میں دیکھی، حضرت یوسف علیہ السلام نے تعبیر دی اور وہ خواب سچی تھی اس کی اس خواب کے بہت اعلیٰ نتیجے ہوئے۔

۲؎ اس کا حقیقی مطلب رب تعالٰی جانے یا اس کے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم۔بعض شارحین نے فرمایا کہ حضور کی نبوت کا زمانہ تئیس سال ہے اور ظہور نبوت سے پہلے چھ ماہ یعنی نصف سال آپ کو بہت ہی سچی اور اعلیٰ خوابیں آئیں تو زمانہ خواب زمانہ نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے اس لیے خواب کو چھیالیسواں حصہ فرمایا گیا۔ واللہ اعلم!بعض روایا ت میں ہے سترواں حصہ ہے،بعض میں ہے پچاسواں حصہ ہے۔ فرماتے ہیں صلی اللہ علیہ و سلم کے اچھے اخلاق اور میانہ روی نبوت کا چوبیسواں حصہ ہے لہذا چاہیے یہ کہ فرمان پر ایمان لاؤ مطلب اللہ رسول کے سپرد کرو، بعض نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو چھیالیس خصوصی صفات عالیہ عطا ہوئیں جن میں سے ایک صفت اچھی خواب ہے،بعض نے فرمایا کہ اس سے عدد خاص مراد نہیں بلکہ زیادتی بیان کرنا مقصود ہے یا یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو وحی چھیالیس قسم کی ہوئی ہے بلاواسطہ جبریل،بواسطہ جبریل،پھر گھنٹہ کی سی آواز،صاف بیان حق تعالٰی کا خواب میں کچھ فرمادینا حتی کہ معراج میں مشاہدہ جمال کراکر کلام فرمایا ان چھیالیس حصہ سے ایک خواب بھی ہے لہذا یہ خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔(اشعہ)خیال رہے کہ حضور پر نبوت ختم ہوچکی مگر نبوت کے اوصاف تاقیامت باقی ہیں اوصاف نبوت یا اجزاء نبوت بعینہ نبوت نہیں۔
Flag Counter