۱؎ یعنی مسلمان خود خواب دیکھے یا دوسرا شخص اس کے متعلق خواب دیکھے۔طبرانی نے بروایت عبادہ ابن صامت حدیث نقل فرمائی کہ مؤمن کا خواب اس کا اپنے رب سے کلام کرنا ہے یا رب کا اس سے کلام کرنا۔ (مرقات)خواب میں رب تعالٰی کا دیدار بھی ہوسکتا ہے،ہمارے امام اعظم نے ننانوے بار رب تعالٰی کو خواب میں دیکھا۔یراھا اور او تری لہ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض خواب انسان خود دیکھتا ہے کہ دن میں جو خیالات رکھتا ہے وہ ہی خواب دیکھتا ہے اور بعض خواب رب کی طرف سے دکھائے جاتے ہیں،مؤمن کے یہ خواب الہام کا حکم رکھتے ہیں انہیں کو رؤیا صالحہ کہتے ہیں۔