۱؎ کاہن و عراف میں فرق یہ ہے کہ کاہن وہ جو آئندہ کی خبریں دے عراف وہ جو موجود چھپی خبریں بتائے کہ تمہاری چوری فلاں نے کی ہے فلاں چیز فلاں جگہ رکھی ہے۔
۲؎ بحالت حیض یا دبر میں صحبت حرام قطعی ہے اس کا حلال جاننے والا کافر ہے وطی بحالت حیض کی حرمت تو نص قرانی سے ثابت ہے فرماتاہے:"لَا تَقْرَبُوۡہُنَّ حَتّٰی یَطْہُرْنَ"اور فرماتاہے:"قُلْ ہُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ"مگر دبر میں صحبت کی حرمت احادیث صحیحہ سے بھی ثابت ہے اور اشارۃً قرآن سے بھی اور وطی بحالت حیض کی حرمت پر قیاس کی وجہ سے بھی یہ قیاس قطعی ہے لہذا دبر میں صحبت حرام قطعی ہے جو حرام جان کر ایسی حرکت کرے وہ سخت بدکار گنہگار ہے۔اس کی تحقیق ہماری تفسیر نعیمی میں ملاحظہ فرماؤ۔خیال رہے کہ لڑکوں سے دبر میں صحبت کرناصریحی قطعی نص سے حرام ہے قوم لوط پر اسی وجہ سے عذاب آیا اور عورت سے دبر میں صحبت قیاس قرآنی سے حرام یہ فرق ضرور خیال میں رہے۔لہذا اصول فقہ والوں کا اسے قیاس شرعی سے حرام فرمانا بالکل درست ہے جیسا کہ نور الانوار اور توضیح تلویح وغیرہ میں ہے۔