Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
436 - 975
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 436
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی چیز کا فیصلہ فرماتا ہے تو فرشتے پست ہو کر اپنے پر بچھادیتے ہیں ۱؎ اس کے فرمان پر گویا کہ وہ پتھر کی چٹان پر زنجیر ہے ۲؎ پھر جب ان کے دلوں سے کھول دیا جاتا ہے تو کہتے ہیں تمہارے رب نے کیا فرمایا ۳؎ وہ کہتے ہیں رب کے فرمودہ کے متعلق کہ حق فرمایا ۴؎ اور وہ بلند ہے بڑائی والا تو اسے چھپ کر سننے والے اس طرح سنتے ہیں کہ ان کے بعض بعض کے اوپر ہوتے ہیں سفیان نے اپنے ہاتھ سے یوں بیان کیا کہ اسے مائل کیا اور اپنی انگلیوں کے درمیان کشادگی کی ۵؎ تو وہ بات سنتا ہے اسے اپنے نیچے والے کیطرف ڈال دیتا ہے پھر دوسرا اسے اپنے نیچے والے کی طرف ڈالتا ہے ۶؎ حتی کہ اسے جادو گر کاہن کی زبان پر ڈال دیتا ہے تو اکثر شہاب اسے ڈالنے سے پہلے لگ جاتا ہے اور اکثر وہ اسے لگنے سے پہلے ڈال دیتا ہے ۷؎ تو اس کے لیے سو جھوٹ بنا دیتا ہے ۸؎ تو کہا جاتا ہے کہ کہا اس نے ہم سے فلاں فلاں دن فلاں فلاں بات نہ  کہی تھی اسی ایک وجہ سے اس کاہن کی تصدیق کی جاتی ہے مگر آسمان سے سنی گئی۹؎(بخاری)
شرح
۱؎ یعنی جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی فیصلہ کا فرشتوں میں اعلان فرماتا ہے تو فرشتے اظہار انکسار کے لیے اپنے پر بچھا دیتے ہیں۔بعض فرشتوں کے دو پر ہیں بعض کے تین بعض کے چار۔

 ۲؎ یعنی فرمان الٰہی کی آواز ایسی ہوتی ہے جیسے صاف چکنے پتھر والے لوہے کی پتلی زنجیر کھینچو نہایت باریک اس کا سمجھنا بہت دشوار الفاظ غیر واضح۔

 ۳؎ یعنی جب وہ آوازختم ہوجاتی ہے اور فرشتوں کے دلوں سے وہ ہیبت جاتی رہتی ہے تو بعض فرشتے بعض سے پوچھتے ہیں یہ پوچھنا ایسا ہوتا ہے جسے طلباء سبق پڑھ کر آپس میں تکرار کرتے ہیں۔

 ۴؎ یعنی رب نے جو کچھ فرمایا بالکل حق فرمایا یہاں حق مقابل ہے باطل کا یا بمعنی ثابت ہے ۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ روزانہ کے واقعات کا ذکر  رب تعالی فرشتوں سے فرماتا ہے،گناہوں کی بخشش،مصیبتوں کا دورکرنا ، کسی قوم کی ترقی،کسی کا تنزل،بیماروں کی شفاء، تندرستوں کو بیمار کرنا،ذلیلوں کو عزت دینا،عزت والوں کو ذلیل کرنا فقیروں کو غنی کرنا،اغنیا ء کو فقیر بنادینا۔غرض کہ لوح محفوظ میں تحریر قول میں لائی جاتی ہے۔(مرقات)اس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ ان فرشتوں کو علوم غیبیہ پر مطلع فرماتا ہے اور جو فرشتے لوح محفوظ پر مقرر وہ تو کائنات کے ذرہ ذرہ سے خبردار ہیں۔

 ۵؎ یعنی زمین سے آسمان تک جنات کے پرے اوپر نیچے ایسے کھڑے ہوجاتے ہیں جیسے مائل ہاتھ کی متفرق کھلی انگلیاں۔

 ۶؎ اس ڈالنے اور بتانے کا سلسلہ اس طرح چلتا ہے کہ آسمان سے قریب والے جن فرشتوں کی باتیں سن کر فورًا اپنے نیچے والے جن کو سنادیں اس نے اپنے نیچے والے کو اس نے اپنے نیچے والے کو حتی کہ آخری پرے نے اپنے دوست کاہن کو سنادیں یہاں ساحر سے مراد کاہن نجومی ہے۔

 ۷؎ یعنی پہلا جن جو فرشتوں سے باتیں چراتا ہے اس کو شعلہ آگ کا ضرور لگتا ہے مگر کسی کو یہ خبریں سنادینے کے بعد اور کسی کو سنادینے سے پہلے پھر یہ شعلہ کبھی تو اس جن کو ہلاک کرتا ہے جلا کر اور کبھی جلاتا نہیں صرف دیوانہ کردیتا ہے۔(مرقات)خیال رہے کہ ہلکی آگ کو قوی آگ فنا کرسکتی ہے۔جن ہلکی آگ سے پیدا ہیں اور شعلہ کی آگ بہت قوی ہوتی ہے۔لہذا یہ اسے جلا کر فنا کردیتی ہے۔

 ۸؎ یا تو پہلا جن ہی یہ ملاوٹ کردیتا ہے یا آخری جن جو کاہن کو سناتا ہے وہ ملاوٹ کرتا ہے دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے۔

 ۹؎ کاہن کی جھوٹی خبروں کی اشاعت نہیں کرتے لوگ اس ایک سچی خبر کی دھوم مچادیتے ہیں کہ فلاں خبر سچی تھی لہذا کاہن سچا ہے آج کل طبیبوں عاملوں کے متعلق یہ دیکھاجارہا ہے۔اگر کوئی طبیب پچاس بیماروں سے قبرستان بھردے مگر دو چار کو صحت ہوجائے تو اسکی صحت و شفاء کا شہرہ ہوتا ہے۔
Flag Counter