۱؎ علم نجوم سے مراد کہانت کا علم ہے کہ ستاروں سے علم ِغیب حاصل کیا جائے۔اسی علم کو جادو سے تشبیہ دینا اس کی انتہائی ذلت کے اظہار کے لیے ہے یعنی علم نجوم جادو کی طرح برا ہے جادو کفر ہے یا قریب کفر۔
۲؎ یعنی جس قدر علوم نجوم میں زیادتی کرے گا۔اس قدر گویا جادو میں زیادتی کرے گا اپنے گناہ بڑھائے گا۔لہذا دونوں جگہ زاد بمعنی ماضی ہے اور مازاد میں ما بمعنی مادام ہے بعض شارحین نے فرمایا کہ زاد مازاد حضرت عبداللہ ابن عباس کا قول ہے اور زاد کا فاعل نبی صلی اللہ علیہ و سلم یعنی حضور نے علم نجوم کی برائی میں بہت زیادتی فرمائی لہذا مازاد مفعول ہے زاد کا۔(اشعہ اللمعات)پہلے معنی زیادہ قوی ہیں۔خیال رہے کہ تاروں سے بارش کا وقت،آندھیاں چلنا سردی گرمی،ارزانی گرانی آیندہ کے حالات معلوم کرنا حرام ہے کہ یہ علوم غیبیہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے مگر ان سے اوقات اور راستے،سمت قبلہ معلوم کرنا بالکل حق ہے۔چاند کے طلوع کی خبر جو بذریعہ تاروں کے دی جائے شرعًا معتبر نہیں حضرت فرماتے ہیں کہ علم نجوم اس قدر حاصل کرو جس سے تم سمت قبلہ اورر استے معلوم کرلو پھر باز رہو(مرقات)لہذا علم توقیت برحق ہے۔یوں ہی علم ریاضی ، علم ہیئت وغیرہ درست ہے اپنی حد میں رہ کر۔