۱؎ غالبًا برکت سے مراد بارش ہے من السماء کے معنی ہیں آسمان کی طرف سے آنا کیونکہ بارش آسمان سے نہیں آتی بادل سے آتی ہے ہاں آسمان کی طرف یعنی بلندی سے آتی ہے۔رب تعالیٰ بارش کے متعلق فرماتا ہے:"وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَکًا"اور ممکن ہے کہ برکت سے مراد عام نعمت ہو بارش ہوا،سورج چاند تاروں کی روشنی وغیرہ مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔
۲؎ یعنی فلاں تارے کے طلوع فلاں تارے کے غروب سے یا فلاں تارے کے فلاں برج میں جانے کی وجہ سے بارش ہوئی۔ خیال رہے کہ تاروں کو مؤثر حقیقی ماننا کفر ہے انہیں علامات مان کر یہ بات کہنا کفر نہیں مگر پھر بھی اچھا نہیں کہ اس سے عوام کے عقیدے بگڑنے کا اندیشہ ہے لہذا یہاں کافرین سے مراد یا اعتقادی کافر ہیں یا ناشکرے۔