Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
432 - 975
حدیث نمبر 432
روایت ہے حضرت زید ابن خالد جہنی سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیبیہ میں نماز فجر پڑھائی اس بار ش کے بعد جو اس رات ہوئی تھی ۱؎ جب فارغ ہوئے تو لوگوں پر توجہ فرمائی پھر فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا لوگ بولے اللہ رسول جانیں فرمایا کہ رب نے فرمایا میرے بندوں میں سے مجھ پر مؤمن و منکر نے صبح پائی ۲؎ جس نے کہا کہ ہم پر اللہ کے فضل اس کی رحمت سے بارش ہوئی یہ مجھ پر مؤمن ہیں ستاروں کے انکاری ۳؎ لیکن جس نے کہا کہ ہم پر فلاں فلاں برج سے بارش ہوئی ۴؎ تو یہ میرا منکر ہے تاروں کا مؤمن(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ غالبًا یہ واقعہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہوا۔حدبیبہ ایک جنگل ہے جدہ اور مکہ معظمہ کے درمیان بحیرہ منزل سے دور مکہ معظمہ سے قریب اس کا کچھ حصہ حل میں ہے کچھ حصہ حرم میں یہاں بیعت رضوان ہوئی بڑا مقدس جنگل ہے ہم نے اس کی زیارت کی ہے۔

۲؎ یعنی رب تعالیٰ نے فرمایا کہ اس بارش کی وجہ سے بعض بندے مؤمن رہے بعض کافر ہوگئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ جو کلام فرشتوں سے فرماتا ہےحضور صلی اللہ علیہ و سلم مدینہ میں تشریف فرما ہوتے ہوئے اسے سنتے ہیں جو رب کی سن سکتے ہیں وہ مخلوق کی بھی سن سکتے ہیں صلی اللہ علیہ وسلم

 ۳؎ یعنی وہ ستاروں کومؤثر نہیں مانتے۔خیال رہے کہ ستاروں کو بعض چیزوں کی علامات ماننا درست ہے رب تعالیٰ فرماتاہے:"وَ بِالنَّجْمِ ھُمْ یَھْتَدُوْنَ"مگر انہیں مؤثر ماننا حرام یا کفر ہے ستاروں سے وقت،سمت،آفتاب کا طلوع و غریب معلوم کرلیا جاتا ہے۔

 ۴؎ یعنی فلاں تارہ فلاں برج میں پہنچا لہذا بارش ہوئی اس کے تاثیر سے بادل اور برسا یہ کہنا حرام بلکہ بعض معانی سے کفر ہے۔خیال رہے کہ ستاروں کو فاعل مدبر ماننا کفر ہے انہیں بارش کی علامت ماننا اگرچہ کفر نہیں مگر یہ کہنا بہت ہی برا ہے کہ فلاں تارے سے یہ بارش ہوئی کہ اس میں کفار کے عقیدے کا اظہار ہے اور ناشکری کے الفاظ ہیں۔اس لیے بعض روایت میں ہے۔اصبح من الناس شاکرًا و کافرًا۔(مرقات)
Flag Counter