۱؎ اسے سچا سمجھ کر اس سے آیندہ غیبی خبریں پوچھنے کے لیے گیا اس کی وہ سزا ہے جو یہاں مذکور ہے لیکن اگر کوئی اسے جھوٹا سمجھ کر لوگوں کو اس کا جھوٹ ظاہر کرنے کے لیے اس کے پاس گیا اس سے کچھ پوچھا تاکہ اس کی جھوٹی خبر لوگوں کو سنادے اس کی یہ سزانہیں۔
۲؎ یعنی اس کی یہ نمازیں ادا ہوجائیں گی اللہ کے ہاں ان کا ثواب نہ ملے گا جیسے غصب شدہ زمین میں نماز کہ اگرچہ ادا تو ہوجاتی ہے مگر اس پر ثواب نہیں ملتا لہذا ان نمازوں کا لوٹانا اس پر لازم نہیں ۔خیال رہے کہ نیکیوں سے گناہ تو معاف ہوجاتے ہیں۔مگر گناہوں سے نیکیاں برباد نہیں ہوتیں وہ تو صرف ارتداد سے برباد ہوتیں ہیں(مرقات)اور جب نمازیں ہی قبول نہ ہوئیں تو دوسری عبادتیں بھی قبول نہ ہوں گی بعض شارحین نے فرمایا کہ چالیس راتوں کی نمازیں سے مراد تہجد کی نمازیں ہیں۔فرائض و واجبات قبول ہوجائیں گے مگر حق یہ ہے راتوں سے مراد دن و رات سب ہیں اورکوئی نماز قبول نہیں ہوتی(اشعہ)دوسری حدیث میں ہے کہ ایسے شخص کی چالیس دن تک توبہ قبول نہیں ہوتی بہرحال نجومیوں سے غیب کی خبریں پوچھنا بدترین گناہ ہے۔