Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
430 - 975
حدیث نمبر 430
روایت ہے ان ہی سے فرماتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ فرشتے عنان میں اترتے ہیں عنان بادل ہے ۱؎ تو وہ ان واقعات کاذکر کرتے ہیں جن کا آسمان میں فیصلہ کیا گیا ۲؎ تو شیاطین چوری سے سنتے ہیں یہ سن کر کاہنوں کو خبر دیتے ہیں ا ن کے ساتھ اپنی طرف سے سو جھوٹ ملادیتے ہیں ۳؎(بخاری)
شرح
۱؎ عنان کی تفسیر بادل سے یا تو خود حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمائی یا کسی راوی نے بادل سے مراد یا تو آسمان دنیا یا جو یعنی آسمان و زمین کے درمیان کی فضا لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ جب بادل نہ ہوں تو فرشتے کہاں اوترتے ہیں۔ (مرقات و اشعہ)

۲؎ یعنی فرشتوں کا مقام آسمان ہے وہاں ان کو احکام الہیہ واقعات عالم کی اطلاع پہنچتی ہے پھر فرشتے آسمان سے اتر کرفضا میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں وہاں آپس میں ایک دوسرے سے ان غیبی واقعات کا ذکر کرتے ہیں یہاں شیاطین چوروں کی طرح چھپ کر سن لیتے ہیں۔

 ۳؎ یعنی یہ شیاطین اگر ایک ہونے والی بات فرشتوں سے سنتے ہیں تو سو جھوٹی باتیں ملا کر ایک سو ایک باتیں اپنے کاہنوں کو سنا جاتے ہیں یہ سو باتیں جھوٹی ہوتی ہیں وہ ایک بات سچی ہوتی ہے لوگ اس ایک بات سچی کی سچائی دیکھ کر کاہنوں کو سچا سمجھ لیتے ہیں۔
Flag Counter