Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
427 - 975
الفصل الثالث

تیسری فصل
حدیث نمبر 427
روایت ہے حضرت عروہ بن عامر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس شگون کا ذکر کیا گیا ۱؎ تو فرمایا ان میں اچھی فال ہے اورکسی مسلمان کو نہ لوٹائے ۲؎  تو جب تم میں سے کوئی وہ دیکھے جسے ناپسند کرتا ہو تو کہہ دے الٰہی بھلائیاں تیرے سوا کوئی نہیں لاتا اور برائیاں تیرے سوا کوئی نہیں دور کرتا، نہیں ہے طاقت اور نہیں ہے قوت مگر اللہ سے ۳؎ (ابوداؤد ارسالًا)
شرح
۱؎ کہ لوگ بعض چیزوں سے بدشگونی لیتے ہیں بعض سے اچھا شگون اس کی حقیقت کیا ہے تب حضور نے وہ جواب دیا جو یہاں مذکور ہے۔

۲؎  فال سے مراد نیک فال ہے جو اچھی بات اچھا نام سننے سے لی جائے یعنی یہ جائز ہے لیکن کوئی شخص کسی کام کو جاتے وقت ناپسندیدہ چیز دیکھے یا سنے جس سے بدشگونی لی جائے تو وہ محض اس وجہ سے اپنے کام سے واپس نہ ہو،اللہ پر توکل کرے اور کام کو جائے۔

۳؎  یہ عمل بہت ہی مجرب ہے ان شاءاللہ اس دعا کی برکت سے کوئی بری چیز اثر نہیں کرتی تمام مروجہ بدفالیوں بدشگونیوں کا بہترین علاج ہے۔واللہ اعلم!
Flag Counter