Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
426 - 975
حدیث نمبر 426
روایت ہے یحیی ابن عبداللہ بن بحیر سے فرماتے ہیں کہ مجھے اس نےخبر دی جس نے فروہ ابن مسیک کو کہتے سنا ۱؎ کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہمارے پاس ایک زمین ہے جسے ابین کہا جاتا ہے ۲؎  اور وہ ہماری باغ اور کھیتی کی زمین ہے۳؎  اور اس کی وبا بہت سخت ہے تو فرمایا اسے اپنے سے جدا کردو کیونکہ قرف سے ہلاکت ہے۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یحیی ابن عبداللہ صنعان کے باشندے ہیں ،ان سے حضرت معمر نے احادیث روایت کیں اور فروہ ابن مسیک صحابی ہیں،مسیک تصغیر ہے مسیک کی،آپ مرادی غطیفی ہیں،اہل یمن سے ہیں،حضور کی خدمت میں         ۹؁ ہجری میں آئے،ایمان لائے عہد فاروقی میں کوفہ رہے،اپنی قوم کے سردار بڑے اعلیٰ درجہ کے شاعر ہیں۔

۲؎ ابین بروزن افعل ایک شخص کا نام ہے جس نے شہر عدن آباد کیا اس لیے اسے عدن ابین کہا جاتا ہے، یمن کے علاقہ میں ایک شخص کا نام بھی ابین ہے جو دریا کے قریب ہے،ایک شہر کا نام بھی ابین ہے،غرضکہ ابین بہت چیز کے نام ہیں جیسے ہمارے ہاں پنجاب میں بہاول ایک شخص کا نام تھا اب بہاول پور،بہاول نگر شہروں کے نام ہیں اور بہاول بخش،بہاول خان آدمیوں کے نام ہیں۔

۳؎  یعنی وہ زمین بہت ہی زرخیز ہے۔اس کے کچھ حصہ میں باغ ہے اور کچھ حصہ میں کھیت،یہاں کی پیداوار دور جاتی ہے یا اس میں باغ ہے اور باغ کے درمیان کھیت جیساکہ اب بھی مدینہ منورہ میں دیکھا جاتا ہے۔

۴؎  قرف کے معنی ہیں قرب یعنی نزدیک ہونا یعنی ایسے وبائی زمین میں رہنا ہلاکت کا سبب ہے یہ طبی مشورہ کے طور پر فرمایا کہ جس جگہ کی آب و ہوا موافق نہ ہو وہاں سے چلا جائے یہ مرض اڑکر لگنے کا مسئلہ نہیں اطباء بیماروں کو پہاڑوں پر بھیج دیتے ہیں گرم علاقہ سے منتقل کردیتے ہیں اسی وجہ سے اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ یہ حدیث اس پائے کی نہیں جس پایہ کی احادیث ممانعت ہیں،فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے جہاں وباء پھیل جائے وہاں سے بھاگو مت اور جہاں وبا پھیلی ہو وہاں جاؤ مت۔خیال رہے کہ گرنے والے مکان سے بھاگ جانا،زلزلہ کی حالت میں گھر سے باہر نکل جانا خلاف توکل نہیں مگر وبائی جگہ سے بھاگ جانا خلاف توکل ہے۔
Flag Counter