Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
428 - 975
باب الکھانۃ

کہانت کا بیان ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ کہانت کاف کے فتحہ سے غیبی خبر دینا اور کہانت کاف کے کسرہ سے اس غیب گوئی کا پیشہ کرنا، بعض کاہنوں کا دعویٰ تھا کہ ہمارے پاس جنات آکر ہم کو غیبی چیزیں غیبی خبریں بتاتے ہیں کہ شیاطین آسمان پر جا کر فرشتوں کی باتیں سن کر ایک سچ میں سو جھوٹ ملا کر کاہنوں نجومیوں کو بتاتے ہیں۔بعض کاہن خفیہ علامات،اسباب سے غیبی چیزوں کاپتہ بتاتے ہیں انہیں عراف کہتے ہیں اور اس عمل کو عرافت یہ دونوں عمل حرام ہیں ان کی اجرت لینا دینا دونوں حرام ہیں۔(مرقات و اشعہ)لفظ کاہن بہت عام ہے۔نجومی،رمال،عراف سب کو کاہن کہا جاتا ہے۔
حدیث نمبر 428
روایت ہے حضرت معاویہ ابن حاکم سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم چند کام زمانہ جاہلیت میں کرتے تھے ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے ۲؎ فرمایا تم کاہنوں کے پاس نہ جاؤ ۳؎ فرماتے ہیں میں نے کہا ہم پرندے آڑاتے تھے فرمایا یہ ایسی چیز ہے جسے تم میں سے کوئی اپنے دل میں پاتا ہے تویہ اسے روک نہ دے ۴؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا کہ ہم سے بعض لوگ خط کھینچتے ہیں ۵؎ فرمایا حضرات انبیاء میں ایک نبی خط کھینچتے تھے ۶؎ تو جوان کے خط کے موافق ہوجائے تویہ درست ہے ۷؎(مسلم)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں سلمی ہیں مدینہ منورہ میں رہتے سہتے ہیں،   ۱۱۷ھ؁ ایک سو سترہ ہجری میں وفات پائی۔آپ سے عطا ابن یسار وغیرہ نے روایات لیں۔

۲؎ غیبی باتیں چھپی چیزیں گم شدہ مال چوری کا اسباب دل کی سوچی باتیں پوچھنے کے لیے فرمایا جائے کہ یہ عمل کیسا ہے۔

۳؎ کاہنوں سے غیبی خبریں پوچھنا حرام ہے انہیں عالم غیب جاننا ان کی خبروں کی تصدیق کرنا کفر ہے ہاں انہیں جھوٹا کرنے کے لیے ان سے کچھ پوچھ کرلوگوں پر ان کا جھوٹا ظاہر کرنا اچھا ہے کہ یہ تبلیغ ہے یہاں پہلی صورت مراد ہے اس سے منع فرمایا گیا ہے ۔

۴؎ یعنی یہ پرندے وغیرہ اڑانا نفس کے دھوکے ہیں انکی حقیقت کچھ نہیں اگر تم کسی کام کو جارہے ہو اور کوئی پرندہ بائیں طرف کو اڑتے دیکھو تو اپنے کام سے نہ رک جاؤ اپنے کام کو جاؤ رب تعالیٰ پر توکل کرو کام بننا نہ بننا اس کی طرف سے ہے۔

۵؎ یعنی علم جفر یا رمل کے طریقہ سے خطوط کھینچ کر غیبی خبریں معلوم کرتے ہیں ان کا یہ عمل ازروئے شریعت اسلامیہ جائز ہے یا نہیں۔

 ۶؎ یہ نبی یا تو حضرت دانیال ہیں یا حضرت ادریس علیہم السلام ان کا معجزہ یہ علم خط تھا۔یعنی علم جفر یار مل جس سے وہ غیبی بات دریافت فرما لیتے تھے۔(مرقات)

۷؎ خلاصہ جواب یہ ہے کہ یہ عمل عوام کے لیے حرام ہے کیونکہ ان نبی کے خط سے مشابہت معدوم ہے یا موہوم اور معدوم و موہوم پر اعتماد کرنا ممنوع ہے۔(مرقات و اشعۃ اللمعات)
Flag Counter