۱؎ حضرت ابوسعید خدری کا نام سعد،ان کے والد کا نام مالک ابن سنان یہ دونوں صحابی ہیں،خدرہ قبیلہ انصار کا ایک خاندان ہے اس لیے انہیں خدری کہا جاتا ہے، ۷۴ چوہتر ہجری میں مدینہ منورہ میں وفات پائی،بقیع سے باہر دفن ہیں یہاں وہ ہی مراد ہیں۔(اشعہ)
۲؎ محدثین نے اس عبارت کے چند مطلب بیان فرمائے:ایک یہ کہ طیرہ سے مراد نحوست ہے اور مطلب یہ ہے کہ اگر کسی چیز میں نحوست ہوتی تو ان تین چیز میں ہوتی لیکن ان میں تو ہے نہیں لہذا کسی شے میں نہیں۔دوسرے یہ کہ اگر نحوست ہو تو ان تین میں ہوگی مگر یقین نہیں لہذا ان میں سے کسی چیز کو یقین سے منحوس نہ جانو۔تیسرے یہ کہ یہاں طیرہ سے مراد ناپسندیدگی ہے یعنی تین چیزیں کبھی دل کو ناپسندہوتی ہیں نحوست مرادنہیں۔(مرقات)چوتھے یہ کہ عورت کی نحوست اس کا بانجھ ہونا،خاوند کا نافرمان ہونا گھر میں لڑائی رکھتا ہے،گھوڑے کی نحوست اس کا اڑیل ہونا،سرکش ہونا ہے کہ مالک کو سواری نہ دے،یوں ہی گھر کی نحوست یہ ہے کہ مسجد سے دور ہو وہاں اذان کی آواز نہ آتی ہو اور نہ وہاں ذکر اللہ ہوتا ہو۔(مرقات و اشعہ) اس صورت میں حدیث بالکل ظاہر ہے۔