| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا پرندے اڑانا شرک سے ہے ۱؎ یہ تین بار فرمایا اور نہیں ہے ہم سے کوئی مگر اللہ تعالیٰ اس کو توکل سے لے جاتا ہے ۲؎(ابوداؤد و ترمذی)فرمایا ترمذی نے کہ میں نے محمد بن اسمعیل کو فرماتے سنا کہ سلیمان ابن حرب اس حدیث کے بارے میں فرماتے تھے۳؎ کہ وما منا الا و لکن اللہ یذھبہ بالتوکل میرے نزدیک یہ ابن مسعود کا قول ہے ۴؎
شرح
۱؎ شرک عملی ہے مشرکوں کا سا کام یا شرک خفی۔ ۲؎ الا کے بعد ایک عبارت پوشیدہ ہے یخطر فی بالہ اور لکن سے نیا کلام ہے یذھبہ میں ہ کی ضمیر اسی خطرہ کی طرف ہے،معنی یہ ہیں کہ ہم مسلمانوں سے جو کوئی بدفالیاں لیتا ہے تو وہ خطرات و شبہات میں پڑ جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اس شبہ و خطرہ کو توکل کے ذریعہ ختم فرمادیتا ہے کہ جو کوئی توکل اختیار کرے وہ ان شبہات میں نہیں پڑتا۔اس مطلب کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے احمد،طبرانی نے حضرت عبداللہ ابن عمرو سے مرفوعًا روایت کیا کہ جسے بدفالی اس کے کام سے روک دے وہ مشر ک ہوگیا،اس کا کفارہ یہ ہے کہ یہ کہہ لے اللہم لاخیر الاخیرك ولا طیر الا طیرك ولا الہ غیرك"اس کی کچھ بحث تیسری فصل میں آئے گی۔ ان شاء اللہ!(مرقات) ۳؎ سلیمان ابن حرب اس حدیث کے راویوں میں سے ہیں،قاضی مکہ تھے،بصرہ کے رہنے والے اپنے وقت کے امام فن تھے،آپ کے سبق میں چالیس ہزار طلباء ہوتے تھے،ماہ صفر ۱۴۰ ایک سو چالیس میں پیدا ہوئے اور ۱۵۸ ایک سو اٹھاون میں فن حدیث سے فارغ ہوئے،انیس سال تک حماد ابن زید محدث کے ساتھ رہے، امام احمد ابن حنبل کے استادوں میں سے ہیں،۲۲۴ھ دوسو چوبیس میں وفات پائی۔(مرقات) ۴؎ یعنی یہ عبارت حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان عالی نہیں بلکہ حضرت ابن مسعود کا اپنا قول ہے حدیث تو الطیر شرك پرختم ہے۔