روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اچھی فال تو لیتے تھے بد فالی نہ لیتے تھے ۱؎ اور اچھا نام پسند فرماتے تھے ۲؎(شرح سنہ)
شرح
۱؎ یعنی حضور انور اچھے مقام وغیرہ سے نیک فال لیتے کہ انہیں سن کر دیکھ کر رحمتِ الٰہی کے امیدوار ہوجاتے تھے مگر کسی چیز سے بدفالی نہیں لیتے تھے کہ اللہ سے ناامیدی نہیں چاہیے۔ ۲؎ حتی کہ مسلمانوں کے برے نام اچھے ناموں سے تبدیل فرمادیتے تھے کہ نام کا اثر نام والے پر پڑتا ہے،ایک شخص کا نام تھا حزن اسے فرمایا تو سہل ہے۔