۱؎ عمرو ابن شرید تابعی ہیں،ان کے والد شرید ابن سوید ثقفی صحابی ہیں،حضر موت کے رہنے والے تھے۔
۲؎ یعنی حضور انور نے اسے اپنے پاس نہ بلایا وہ اپنی منزل ہی میں رہا اسے مصافحہ فرماکر بیعت نہ فرمایا بلکہ دور سے زبانی بیعت کی خبر دے دی۔خیال رہے کہ یہ حدیث عوام مؤمنین کو احتیاط کی تعلیم کے لیے ہے اور حضور انور کا کوڑھی کو اپنے ساتھ کھلانا خواص مؤمنین کو توکل کی تعلیم کے لیے ہے جیسے گرتی ہوئی دیوار ڈوبتی ہوئی کشتی سے علیحدہ رہنا ایمان کے خلاف نہیں،یوں ہی کسی مہلک بیماری والے سے بچنا خلاف ایمان نہیں جیسے مضر غذاؤں سے پرہیز برا نہیں یوں ہی مضر صحبتوں سے دور رہنا حرام نہیں،شارحین نے اور بہت وجہیں ان احادیث کی مطابقت میں بیان فرمائی ہے اگر شوق ہو تو لمعات اور اشعۃ اللمعات میں اسی حدیث کی شرح ملاحظہ کرو۔ہم نے پہلے عرض کیا کہ بعض بیمار کے اردگرد کی ہوا متعفن ہوجاتی ہے جس شخص میں اس مرض کا مادہ موجود ہو وہ اس ہوا سے بیمار ہوجاتا ہے جس چراغ میں تیل بتی موجود ہو وہ دوسرے چراغ سے مس کرتے ہی بھڑک اٹھتا ہے اس لیے احتیاط بری نہیں۔