Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
414 - 975
حدیث نمبر 414
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ مرض کا اڑ کر لگنا ہے  نہ کوئی چیز ہے اور نہ صفر تو ایک دیہاتی نے عرض کیا یارسول اللہ اونٹ کا کیا حال ہے کہ وہ ریگستان میں ہرن کی طرح ہوتا ہے ۱؎  پھر اس سے خارشی اونٹ ملتا ہے تو اسے خارشی کردیتا ہے۲؎  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ تو پھر پہلے اونٹ کو کس نے خارشی کردیا۳؎(بخاری)
شرح
۱؎  یعنی جب تک اونٹ ریگستان میں الگ تھلگ رہتا ہے ہرن کی طرح صاف ستھرا بے عیب ہوتا ہے۔

۲؎  مقصد یہ ہے کہ حضور مرض کی تعدی کا انکار فرماتے ہیں مگر تجربہ شاہد ہے کہ تعدی ہوتی ہے مرض اڑکر لگتا ہے ہم نے اپنے اونٹوں میں اس کا مشاہدہ کیا ہے۔

۳؎  یعنی اگر خارش اڑ کر ہی لگتی ہے تو سب سے پہلا خارشی اونٹ جس سے خارش کی ابتدا ہوئی اسے خارش کہاں سے لگی وہاں تو کہنا پڑے گا کہ رب کے حکم سے وہ خارشی ہوا تو آیندہ بقیہ اونٹ بھی اس کے حکم سے خارشی ہوئے اللہ تعالیٰ پر نظر رکھو۔یہاں اعدی فرمانا مشاکلت کے لیے ہے جیسے کما تدین تدان یا جیسے جزاء سیئۃ سیئۃ ورنہ فرمایا جاتا فمن اعطی الاول۔(مرقات)
Flag Counter