Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
413 - 975
حدیث نمبر 413
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ مرض کا اڑکر لگنا ہے ۱؎  نہ پرندہ نہ الو ۲؎ نہ صفر کوئی چیز ہے۳؎  اور کوڑھی سے ایسے بھاگے جیسے تم شیر سے بھاگتے ہو۴؎(بخاری)
شرح
۱؎ اہل عرب کا عقیدہ تھا کہ بیماریوں میں عقل و ہوش ہے جو بیمار کے پاس بیٹھے اسے بھی اس مریض کی بیماری لگ جاتی ہے وہ پاس بیٹھنے والے کو جانتی پہچانتی ہے یہاں اسی عقیدے کی تردید ہے۔موجودہ حکیم ڈاکٹر سات بیماریوں کو متعدی مانتے ہیں: جذام،خارش،چیچک،موتی جھرہ ،منہ کی یا بغل کی بو،آشوب چشم،وبائی بیماریاں اس حدیث میں ان سب وہموں کو دفع فرمایا گیا ہے۔(مرقات و اشعہ)اس معنی سے مرض کا اڑ کر لگنا باطل ہے مگر یہ ہوسکتا ہے کہ کسی بیمار کے پاس کی ہوا متعفن ہو اور جس کے جسم میں اس بیماری کا مادہ ہو وہ اس تعفن سے اثر لے کر بیمار ہوجاوے اس معنی سے تعدی ہوسکتی ہے اس بنا پر فرمایا گیا کہ جذامی سے بھاگو لہذا یہ حدیث ان احادیث کے خلاف نہیں۔غرضکہ عددی یا تعدی اور چیز ہے کسی بیمار کے پاس بیٹھنے سے بیمار ہوجانا کچھ اور چیز ہے۔

۲؎ اہلِ عرب کا خیال تھا کہ میت کی گلی ہڈیاں الو بن کر آجاتی ہیں اور الو جہاں بول جاوے وہاں ویرانہ ہوجاتا ہے یہ عقیدہ غلط ہے،بعض لوگ کہتے ہیں کہ جس مقتول کا بدلہ نہ لیا جاوے اس کی روح الو کی شکل میں آکر لوگوں سے کہتی ہے اسقو،اسقو مجھے پانی پلاؤ یہ سب باطل خیالات ہیں۔

۳؎  صفر سے مراد یا تو ماہ صفر ہے جسے اب بھی بعض منحوس جانتے ہیں یا اس سے مراد پیٹ کا درد ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ پیٹ کا درد ایک سانپ ہے جو پیٹ میں رہتا ہے اس کا مروڑہ کھانا پیٹ کا درد ہے اس میں ان دونوں خیالات کی تردید ہے۔(مرقات)اس کی اور بہت شرحیں ہیں۔بعض لوگ صفر کے آخری چہار شنبہ کو خوشیاں مناتے ہیں کہ منحوس شہر چل دیا یہ بھی باطل ہے۔

۴؎  یہ حکم عوام کے لیے ہے جن کا عقیدہ بگڑ جانے کا خوف ہو کر اگر کوڑھی کے پاس بیٹھنے سے اتفاقًا انہیں بھی کوڑھ ہوجائے تو سمجھیں کہ کوڑھ اڑ کر لگ گئی ان کے لیے کوڑھی سے علیحدگی اچھی ہے،خاص متوکل لوگ جن کے دلوں پر اس سے کوئی اثر نہ پڑے ان کے لیے یہ حکم نہیں لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
Flag Counter