Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
412 - 975
باب الفال و الطیرۃ

فال اور بدفال لینے کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  محاورہ عرب میں فال ہر اچھی بری شگون کو کہتے ہیں اور طیرہ عمومًا بدفالی کو کہا جاتا ہے۔طیرہ بمعنی تطیر ہے جیسے خیرۃ اور تحیرا اس کے لفظی معنی ہیں اڑانا۔اہلِ عرب جب کسی کام کو جاتے تو کسی بیٹھے ہوئے پرندے کو اڑاتے اگر داہنی طرف اڑ جاتا تو سمجھتے کہ ہمیں کامیابی ہوگی ،اگر بائیں طرف اڑتا تو کہتے کہ ناکامی ہوگی پھر اس کام کو جاتے ہی نہیں،اگر اوپر یا نیچے کی طرف اڑتا تو سمجھتے کہ کام میں دیر لگے گی رکاوٹ ہوگی،پھر اس کا استعمال مطلقًا فال یا بدفالی میں ہوگیا۔یوں ہی اگر شکاری جانور داہنی طرف نظر پڑتا اسے بروج کہتے اور بائیں طرف نظر آنے کو سنوح،بروج سے نیک فال لیتے،سنوح سے بدفالی،سوانع وبوارح سے ممانعت کے یہ ہی معنی ہیں۔خیال رہے کہ نیک فال لینا سنت ہے اس میں اللہ تعالیٰ سے امید ہے اور بدفالی لینا ممنوع کہ اس میں رب سے نا امیدی ہے۔امید اچھی ہے نا امیدی بری،ہمیشہ رب سے امید رکھو۔
حدیث نمبر 412
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ بدفالی کچھ نہیں ۱؎ بہترین چیز فال ہے لوگوں نے عرض کیا فال کیا چیز ہے فرمایا وہ اچھا لفظ جسے تم میں کوئی سنے ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ غالبًا یہاں طیرہ سے مراد بدفالی لینا ہے خواہ پرندے سے ہو یا چرندہ جانور سے یا کسی اور چیز سے کیونکہ بدفالی مطلقًا ممنوع ہے،قرآن مجید میں تطیر اور طائر بمعنی بدفالی آیا ہے،رب فرماتاہے:"قَالُوۡۤا اِنَّا تَطَیَّرْنَا بِکُمْ"اور فرماتاہے:"قَالُوۡا طٰٓئِرُکُمْ مَّعَکُمْ"۔مقصد یہ ہے کہ اسلام میں بدفالی کوئی شیئ نہیں کسی چیز سے بدفالی نہ لو۔

۲؎  جیسے کوئی شخص کسی کام کو جارہا ہے کسی سے آواز آئی اے نجیح یا اے برکت یا اے رشیدیہ جانے والا یہ الفاظ سن کر کامیابی کا امیدوار ہوگیا یہ بالکل جائز ہے۔بعض دکاندار صبح کو یارزاق،گمشدہ کے متلاشی یا واجد،مسافر لوگ یا سالم،حاجی و غازی لوگ یا منصور یا مبرور اور زائر لوگ یا مقبول سن کر خوش ہو جاتے ہیں یہ سب اسی حدیث سے ماخوذ ہے۔
Flag Counter