Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
410 - 975
حدیث نمبر 410
روایت ہے حضرت نافع سے فرماتے ہیں فرمایا ابن عمر نے اے نافع میرا خون کھولتا ہے تو فصد والے کو میرے پاس لاؤ مگر جوان آدمی اختیارکرنا نہ بڈھا لینا اور نہ بچہ ۱؎ فرماتے ہیں کہ ابن عمر نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ فصد نہار منہ پر اچھی ہے ۲؎  وہ عقل میں اضافہ حفظ میں زیادتی کرتی ہے اور حافظ کا حافظہ بڑھاتی ہے۳؎  جو فصدکرانا چاہے وہ اللہ کے نام پر جمعرات کے دن کرائے اور جمعہ،ہفتہ،اتوار کے دن فصد سے بچو۴؎  پیر اور منگل کےدن فصد لو  اور بدھ کے دن فصد سے بچو کہ یہ ہی وہ دن ہے جس میں ایوب علیہ السلام بلا میں مبتلا کیے گئے ۵؎  اور کوڑھ اور سفید داغ نہیں شروع ہوتے مگر یا بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں ۶؎(ابن ماجہ)
شرح
۱؎  کیونکہ بڈھا اور بچہ کمزور ہوتے ہیں وہ فصد کا خون قوت سے نہیں کھینچ سکتے اس لیے جوان اور قوی آدمی سے فصد کھلوائی جاوے۔خیال رہے کہ بڈھا کا تجربہ زیادہ ہوتا ہے طاقت کم اور بچہ میں طاقت بھی کم تجربہ بھی کم،جوان میں اگرچہ تجربہ قدرے کم ہوتا ہے مگر طاقت زیادہ اس لیے آپریشن وغیرہ کے لیے جوان طبیب کو ڈھونڈو بڈھے کے بھی ہاتھ کانپ جاتے ہیں جس سے نشتر کہیں کا کہیں لگ جاتا ہے اس لیے جوان بہتر۔

۲؎  یعنی جب بھی فصد لو تو بغیر کھائے پئے لو نہار منہ باسی منہ۔ہم نے دیکھا کہ آپریشن سے پہلے مریض کو فاقہ کراتے ہیں بلکہ کچھ گھنٹے پہلے اس کا انیمہ کرکے پیٹ صاف کردیتے ہیں پھر آپریشن کرتے ہیں تاکہ ہرے زخم پر پیشاب پاخانہ نہ ہو قے وغیرہ نہ آئے آج کل کے ڈاکٹری و طبی اصول احادیث سے مستنبط ہیں۔

۳؎  نہار منہ فصد یا مطلقًا فصد کے یہ فوائد ہیں،دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے بشرطیکہ ضرورۃً استعمال کی جاوے۔

۴؎  کیونکہ یہ دن فصد کے لیے اچھے نہیں اللہ تعالٰی نے بعضے دنوں میں بعض خصوصیات رکھی ہیں اس کی حکمتیں وہ ہی جانتا ہے۔ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ آٹھ،اٹھارہ،اٹھائیس،اور تین،تیرہ،تئیس تاریخوں میں نکاح نہ کرے یہ تاریخیں نکاح کے لیے اچھی نہیں۔علامہ شامی نے لکھا کہ بدھ کے دن بیمار پرسی نہ کرے کہ لوگ اس کو اچھا نہیں سمجھتے۔

۵؎  ایوب علیہ السلام نے بدھ کے دن فصد لی تو آپ پر بیماری مسلط ہوئی یا بدھ کے دن آپ کی بیماری کی ابتداء ہوئی۔معلوم ہوا کہ بدھ کا دن عتاب کا دن ہے بلکہ بعض قوموں پر بدھ کے دن عذاب آیا لہذا یہ دن کفار پر عذاب کا بھی ہے  اورمنحوس ہے،رب تعالی  بدھ کے متعلق فرماتا ہے :"یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ"۔اس سے ثابت ہوا کہ عتاب وعذاب کا دن دائمی منحوس ہوتا ہے تو ضروری ہے کہ رحمت کا دن دائمی مبارک ہو لہذا پیر کا دن بڑا ہی مبارک ہے کہ حضور انور کی ولادت کا دن ہے۔

۶؎  اس سے پتہ لگا کہ بدھ کے دن کی نحوست دائمی ہے،بعض روایات میں ہے کہ پیر کے دن ایوب علیہ السلام کو شِفا عطا ہوئی۔
Flag Counter