۱؎ خیبر میں ایک یہودیہ نے بکری کے گوشت میں حضور انور کو زہر دیا زہر بہت سخت تھا یہ گوشت بشر ابن براہ ابن معرور نے بھی کھایا وہ وہاں ہی وفات پا گئے،یہ فقیر ان کی قبر انور پر حاضر ہوا جو خیبر میں ہے۔ حضور نے حکم دیا تو وہ گوشت جلاکر دفن کردیا گیا اور حضور انور نے اس یہودیہ کو معافی دے دی یہاں وہ واقعہ بیان ہورہا ہے حضور انور نے اس زہر کا اثر دفع کرنے کیلئے فصد لی۔
۲؎ معمر اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں،آپ کا نام معمر ابن راشد ہے،کنیت ابو عروہ ہے،ازدی ہیں،یمن کے بڑے عالم ہیں،اٹھاون سال عمر ہوئی، ۵۳ ترپن میں وفات پائی،تابعین میں سے ہیں،دس ہزار حدیثیں آپ کو حفظ تھیں۔(مرقات)
۳؎ اس سے مقصود ہے حافظہ کی انتہائی خرابی کا بیان۔خیال رہے کہ حضرت معمر نے بلا ضرورت اور بے وقت بے موقعہ سر سے بہت خون نکلوادیا اس لیے آپ کو یہ مرض لاحق ہوا اور وہ بھی عارضی تھا پھر صحت ہوگئی ورنہ حدیث شریف میں ہے کہ سر میں فصد لینے میں سات بیماریوں سے شفا ہے: سر درد،جنون،جذام،برص، زیادہ نیند،درد داڑھ،آنکھ تلے اندھیرا ہوجانا مگر یہ فوائد جب ہیں جب ضرورۃً اورصحیح وقت میں فصد لے اس لیے فصد کسی قابل طبیب کی رائے سے لینا چاہیے ورنہ نقصان کا اندیشہ ہے۔