Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
402 - 975
حدیث نمبر 402
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں فرمایا مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ کیا تم میں مغرب کے لوگ دیکھے گئے ہیں ۱؎ میں نے عرض کیا مغرب کیا چیز ہے فرمایا وہ جن میں جنات شریک ہو جاویں ۲؎ (ابوداؤد)اور حضرت ابن عباس کی حدیث خیر ما تداویتم کنگھی کرنے کے باب میں ذکر کر دی گئی ۳؎
شرح
۱؎  مغرب بنا ہے تغریب سے بمعنی دورکردینا اسی لیے جلا وطن کرنے کو تغریب کہتے ہیں یہاں مراد ہے رحمت الٰہی سے دور۔

۲؎ اسی طرح کہ ان کے ماں باپ بغیر بسم اللہ صحبت کریں جس کی وجہ سے شیطان بھی صحبت میں شریک ہوجائے اس صحبت سے جو بچہ پیدا ہو وہ شکلًا انسان سیرۃً شیطان ہوتا ہے،اس کی نظر بہت سخت بے ادب بدتمیز جیساکہ آج کل عمومًا دیکھا جارہا ہے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَشَارِکْہُمْ فِی الۡاَمْوٰلِ وَ الۡاَوْلٰدِ" ہمارے بعض بچوں کایہ حال ہے کہ جنے گئے سینما میں،پلے بڑھے کالج میں،رہے ہوٹلوں میں،مرے ہسپتال میں اللہ اس زندگی سے بچائے۔حدیث پاک میں ارشاد ہوا کہ صحبت کے وقت یہ دعا پڑھ لیا کرو بسم اللّٰہ اللھم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان مارزقتنا اس کی نفیس بحث یہاں مرقات میں ملاحظہ کرو بہت نفیس تحقیق کی ہے۔

۳؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی ہم نے باب الترجل میں بیان کی مناسبت کا لحاظ رکھتے ہوئے۔
Flag Counter