۱؎ حوض سے مراد وہ گڑھا ہے جس میں درخت کی جڑ قائم ہوتی ہے اس پر درخت کی بقاء ہے یوں ہی معدہ پر جسم کی بقاء ہے۔
۲؎ یعنی معدے سے رگیں دوسرے اعضاء کی طرف اچھی رطوبتیں اور صالح غذا لے کر چلتی ہیں جس سے صحت اچھی ہوتی ہے۔
۳؎ یہ حدیث علم طب کی اصل ہے کہ اگر معدہ درست ہے تو تمام جسم درست ہے اگر معدہ خراب ہے تو سارا جسم بیمار۔اس حدیث میں معدہ کو درخت کے حوض سے تشبیہ دی گئی ہے اور بدن کو درخت سے اور بدن کی رگوں کو درخت کی ان رگوں سے جو جڑ سے چلتی ہیں اور شاخ شاخ پتے پتے میں جڑ کا رس پہنچاتی ہے،یہ ہی حال ہماری روحانیت کا ہے حرام اعمال حاصل ہوتے ہیں،اسی لیے رب نے فرمایا:"کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوۡا صٰلِحًا"۔حضور فرماتے ہیں کہ جو گوشت حرام غذا سے بنے گا دوزخ کی آگ اسے جلد جلائے گی بہرحال طب نبوی بہت جامع ہے۔