Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
400 - 975
حدیث نمبر 400
روایت ہے ابو امامہ ابن سہل ابن حنیف سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ عامر ابن ربیعہ نے سہل ابن حنیف کو دیکھا ۲؎ جو نہا رہے تھے تو بولے اللہ کی قسم میں نے آج کا سا دن دیکھا نہ ایسی محفوظ کھالی۳؎ فرماتے ہیں کہ فورًا سہل گر گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضری دی گئی تو عرض کیا گیا یارسول اللہ کیا حضور کو سہل ابن حنیف کے علاج میں رغبت ہے خدا کی قسم وہ تو اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے۴؎ تو فرمایا کیا تم انکے متعلق کسی پر شبہ کرتے ہو بولے ہم عامر ابن ربیعہ پر شبہ کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عامر کو بلایا ان پر ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے تم نے دعاء برکت کیوں نہ کی ۵؎ اچھا اب ان کے لیے دھوؤ ۶؎ چنانچہ عامر نے ان کے لیے اپنا منہ اور ہاتھ کہنیاں اور گھٹنے اور اپنے پاؤں کے کنارے اور تہند کا داخلی حصہ ۷؎ ایک پیالہ میں دھویا پھر اس پر ڈالا گیا چنانچہ وہ لوگوں کے ساتھ چل دیا اسے کوئی تکلیف نہ تھی ۸؎ (شرح) اسے مالک نے بھی روایت کیا اور ان کی روایت میں ہے کہ فرمایا نظر حق ہے تم اس کے لیے وضو کرو انہوں نے وضو کیا ۹؎
شرح
۱؎  آپ کا نام  سعد ابن سہل ہے،کنیت ابو امامہ ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے دو سال پہلے پیدا ہوئے  اسی لیے صحابی نہیں تابعی ہیں،اپنے والد سہل اور ابوسعید خدری سے روایات کرتے  ہیں،بانوے سال عمر ہوئی،      ۱۰۰؁    ہجری  میں وفات ہوئی ۔

۲؎  حضرت عامر دو ہجرتوں والے صحابی ہیں ،بدر اور تمام غزوات میں  حاضر ہوئے ،حضرت عمر سے پہلے اسلام لائے،       ۳۲؁   میں وفات پائی اور سہل ابن حنیف انصاری اوسی ہیں بدر اور تمام غزوات میں شریک رہے،بعد میں حضرت علی کے ساتھ رہے،کوفہ میں       ۳۸؁  اڑتیس میں وفات ہوئی،حضرت علی نے آپ کو پہلے مدینہ منورہ کا پھر فارس کا حاکم بنایا۔

۳؎  مخباۃ بنا ہے خباء سے بمعنی خیمہ و پردہ مخباۃ کنواری پردہ نشین لڑکی کو کہتے ہیں اب بمعنی محفوظ استعمال ہوتا ہے یہاں اسی معنی میں ہے،حضرت سہل بہت خوبصورت نازک اندام تھے یعنی کیسی چکنی کھال ہے جس سے بدن کی ہڈیاں چھپی ہوتی ہیں جیسے دیوار پر لیس یا سیمنٹ کا پلستر اس سے کھال کی نرمی اور تندرستی مراد ہے۔کہا تعجب سے جس سے نظر لگ گئی۔

۴؎ یعنی حضرت سہل کو نظر لگ گئی جس سے وہ بے ہوش ہوگئے۔

۵؎ یعنی نظر لگانا نہ لگانا خود نظر والے کے اختیار میں ہے اگر کسی پسندیدہ چیز کو دیکھ کر ماشاءاللہ یا بارك اللہ کہہ دے تو نظر نہیں لگتی اگر ان کلمات کے بغیر ہی تعجب سے دیکھے اور تعجب کے الفاظ بولے تو نظر لگ جاتی ہے۔

۶؎ یعنی اپنی نظر کا اثر دور کرنے کے لیے اپنا چہرہ اپنے ہاتھ اور کہنیاں،گھٹنے،پاؤں دھوکر پانی دو تاکہ ان پر چھڑکا جاوے جیساکہ آگے آرہا ہے۔

۷؎ تہبند کے داخلی حصہ میں تین احتمال ہیں: یا تو خود تہبند کا پلو مراد ہے جو جسم سے متصل ہو یا نظر والے کی ران و سرین مراد ہیں یا اعضاء تناسل اسی طرح کہ اس سے استنجاء بھی کرایا گیا اور پھر یہ پانی منظور پر چھڑکا گیا۔

۸؎ یہ نظر اتارنے کا ایک ٹوٹکہ ہے۔معلوم ہوا کہ نظر کے لیے جائز ٹوٹکے کرنا درست ہے۔یہاں مرقات نے نظر اتارنے کے بہت ٹوٹکے بیان فرمائے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نظر والے کو اعضاء بدن دھوکر دینا واجب ہے جب کہ اس سے یہ مطالبہ ہو کیونکہ یہ دفع نقصان کا ذریعہ ہے جب کہ کچا لہسن،کچی پیاز کھا کر مسجد میں آنا منع ہے تاکہ نمازیوں کو تکلیف نہ ہو تو یہ بھی ضروری ہے۔قاضی عیاض نے فرمایا کہ بعض لوگوں کی نظر بہت تیز ہوتی ہے مسلمانوں کو ان سے بچنا چاہیے بلکہ ایسے لوگوں کو حاکم مجمعوں میں جانے سے روک سکتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک کوڑھی کو مجمعوں میں جانے سے روکا تھا پھر خلفاء نے یہ عمل جاری فرمایا۔(مرقات)

۹؎ یعنی نظر والے کو وضو کا حکم دیا پھر وضو کا غسالہ منظور پر چھینٹا مار دیا۔خیال رہے کہ جب دواؤں کی تاثیر میں ہماری عقل کام نہیں کرتی تو ان ٹوٹکوں میں کام نہ کرے گی لہذا ان اعمال پر اعتراض کرنا بے جا ہے۔
Flag Counter