Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
399 - 975
حدیث نمبر 399
روایت ہے شفاء بنت عبداللہ سے ۱؎ سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تشریف لائے جب کہ میں حفصہ کے پاس تھی تو فرمایا کہ تم انہیں نملہ کا دم کیوں نہیں سکھاتیں۲؎ جیسے تم نے انہیں لکھنا سکھایا ۳؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ کا نام لیلی ہے،شفاءلقب قرشیہ عدویہ ہیں،مہاجرین اولین میں سے ہیں،بڑی عاملہ عاقلہ بی بی تھیں،اکثر حضور صلی اللہ علیہ و سلم آپ کے ہاں دوپہر کا آرام فرماتے تھے حتی کہ آپ نے حضورکے لیے ایک بستر علیٰحدہ رکھا تھا۔(مرقات و اشعہ)

۲؎ نملہ باریک دانے ہوتے ہیں جو بیمار کی پسلیوں پر نمودار ہوتے ہیں جس سے مریض کو بہت سخت تکلیف ہوتی ہے اسے تمام جسم پر چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوتی ہیں اس لیے اسے نملہ کہتے ہیں۔بعض کا خیال ہے کہ اس کا نام موتی جھرہ ہے مگر یہ درست نہیں کہ موتی جھرہ تمام جسم پر ہوتا ہے حضرت شفاء مکہ معظمہ میں اس مرض کا بہترین دم کرتی تھیں آپ وہاں اس دم کی وجہ سے مشہور تھیں اس دم کے الفاظ مرقات نے یہاں بیان کیے آخری عبارت اس کی یہ ہے"العروس تنتعل وتخضب تکتحل وکل شیئ تفتعل غیر انہا لاتعص الرجل"یعنی دلہن جوتے پہنے،خضاب لگائے،سرمہ لگائے،سب کچھ کرے خاوند کی نافرمانی نہ کرے۔بی بی حفصہ نے حضور کا ایک راز ظاہر فرمادیا تھا اس لیے فرمایا کہ انہیں نملہ کا دم سکھاؤ جس میں خاوند کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے۔

۳؎ یعنی تم نے جناب حفصہ تو لکھنا تو سکھادیا جو عورتوں کے لیے بہتر نہیں اور نملہ کا دم نہ سکھایا جو فائدہ مند ہے لہذا اس حدیث سے عورتوں کو لکھنے کی تعلیم دینے کی اجازت نہیں عورتوں کو لکھنے کی تعلیم دینا مکروہ ہے خصوصًا اس زمانہ میں جب کہ عورتوں کی آزادی حد سے بڑھ چکی ہے،اس کی ممانعت صریحی حدیث میں وارد ہے لاتعلموھن بالکتابۃ عورتوں کو لکھنا نہ سکھاؤ،بعض شارحین نے فرمایا کہ عوام عورتوں کو یہ تعلیم ممنوع ہے ازواج مطہرات کے لیے جائز تھی لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔(مرقات اشعہ)
Flag Counter