۱؎ آپ کے حالات ابھی کچھ پہلے بیان کیے گئے۔جب آپ نے یہ سوال کیا ہے تب آپ حضرت جعفر طیار کی زوجہ تھیں۔(اشعۃ اللمعات)حضرت جعفر طیار کی کچھ اولاد آپ سے تھی اور کچھ اولاد دوسری زوجہ سے ان سب کے متعلق آپ نے یہ سوال فرمایا۔
۲؎ کیونکہ یہ بچے ظاہری باطنی خوبیوں والے ہیں اس لیے لوگ انہیں تعجب کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ بچے نظر کی وجہ سے بیمار ہوجاتے ہیں،نظر کا اثر زہر سے زیادہ تیز اور سخت ہوتا ہے اس لیے یسرع فرمانا بالکل درست ہے۔
۳؎ غالبًا انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے ہی نظر کا دم سیکھا ہوگا اس کی اجازت چاہ رہی ہیں جو عطا ہوگئی۔
۴؎ یعنی نظر بد بڑی مؤثر ہوتی ہے اگرکسی چیز سے تقدیر پلٹ جاتی تو نظر سے پلٹ جاتی۔خیال رہے کہ غصہ کی نظر منظور میں ڈر پیدا کردیتی ہے،محبت کی نظر خوشی اسی طرح تعجب کی نظر بیماری پیدا کرسکتی ہے رب تعالٰی جس چیز میں چاہے تاثیر خاص پیدا فرمادے وہ قادر مطلق ہے،اگر حائضہ عورت دودھ کے برتن میں ہاتھ ڈال دے تو دودھ خراب ہوجاتا ہے وہ ہی عورت پاک ہوکر ہاتھ ڈالے تو نہیں بگڑتا پھرجیسے بری نظر پر اثر پیدا کرتی ہے یوں ہی صالحین مقبولین کی رحمت کی نظر منظور میں انقلاب پیدا کردیتی ہے،نظر بد بیماریاں پیدا کرتی ہے تو نظر خوب بیماریاں دورکرتی ہے،شیطان نے بارگاہ الٰہی میں عرض کیا انظرنی مجھے مہلت دے اگر کہتا انظرانی مجھے نظر رحمت سے دیکھ لے تو اس کا بیڑا پار ہوجاتا۔(مرقات)ایک شخص نے کہا کہ میں نے بڑے بڑوں کو دیکھا کسی میں کچھ نہیں ہے،دوسرے نے کہا کہ مگر کسی نے تجھے نہ دیکھا اگر کوئی نظر والا تجھے دیکھ لیتا تو تیرا یہ حال نہ ہوتا غرضکہ نظر بڑی چیزہے کوئی نظر خانہ خراب کردیتی ہے کوئی نظر خراب کو آباد کردیتی ہے۔شعر
نظر کی جولانیاں نہ پوچھو نظر حقیقت میں وہ نظر ہے
اٹھے تو بجلی پناہ مانگے گرے تو خانہ خراب کردے