Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
395 - 975
حدیث نمبر 395
روایت ہے عیسیٰ ابن حمزہ سے فرماتے ہیں کہ میں عبداللہ ابن عکیم کے پاس گیا ۱؎ انہیں سرخی تھی ۲؎ تو میں نے کہا کہ آپ تعویذ کیوں نہیں باندھتے تو فرمایا کہ ہم اس سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو کوئی چیز لٹکائے(باندھے) تو اس کی طرف سونپ دیا جاتا ہے ۳؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ عیسیٰ ابن حمزہ تابعی ہیں،عبداللہ ابن عکیم کی صحابیت میں اختلاف ہے صحیح یہ ہے کہ وہ بھی تابعی ہیں انہوں نے حضور کا زمانہ پایا مگر  زیارت نہ کی ان سے کوئی روایت منقول نہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ ان کا نام عیسیٰ ابن عبدالرحمن ابن یعلیٰ ہے یا عیسیٰ ابن یونس ابن اسحاق عیسیٰ بڑے متقی تھے،ایک سال حج کرتے تھے اور ایک سال جہاد،۱۸۷ھ؁  ایک سوستاسی میں وفات پائی۔(مرقات)

۲؎ حمرہ وہ بیماری ہے جس میں چہرہ اور جسم پر سرخ دھبے پڑ جاتے ہیں اسے پنجابی میں قین کہتے ہیں اس بیماری میں بہت قسم کے دم کیے جاتے ہیں۔

۳؎ یعنی اگرچہ یہ کام جائز تو ہیں مگر عمل کے خلاف ہیں اس لیے ان سے بچنا بہتر ہے یہ ایسا ہی ہے جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ جو کوئی حکومت کا طلبگار ہوکر اسے حاصل کرے تو وہ حکومت اس کے سپرد کردی جاوے گی اورجو مجبورًا حاکم بنادیا جاوے تو اس کی مدد کی جاوے گی۔(مرقات)ہم ابھی دواؤں اور دم میں فرق بیان کرچکے ہیں کہ دوا علاج میں توکل کیوں قائم رہتا ہے اور اس دم وغیرہ میں کیوں جاتا رہتا ہے۔
Flag Counter