Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
394 - 975
حدیث نمبر 394
روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو داغ لگائے یا جھاڑ پھونک کرے وہ توکل سے دور ہوگیا ۱؎ (احمد، ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ یعنی اگرچہ داغ لگانا دم کرنا جائز ہے مگر متوکلین کی شان سے بعید ہے۔خیال رہے کہ زمانہ جاہلیت میں داغ اور دم کو دفع مرض کے لیے مستقل علت مانا جاتاتھا اس لیے حضور انور نے اس کو توکل کے خلاف قرار دیا۔ دواؤں کے متعلق یہ عقیدہ کسی کا نہ تھا اس لیے دوا خلاف توکل نہیں اسی لیے حضور انور نے متوکلین کی صفت میں داغ نہ کرنا،رقیہ نہ کرنا بیان فرمایا دوا نہ کرنے کا ذکر نہ کیا۔
حدیث نمبر 694
۱؎ آپ تابعین میں سے ہیں،نہایت متقی پرہیزگار تھے،چالیس سال زمین سے پیٹھ نہ لگائی بیٹھے بیٹھے جان نکلی سجدے کرتے کرتے پیشانی میں غار ہوگیا،     ۱۰۲؁ ایک سو دو ہجری میں وفات ہوئی۔(اشعہ و مرقات)لہذا یہ حدیث مرسل ہے کہ صحابی کا ذکر اس میں نہیں ہے۔

۲؎  یعنی مسلمان میں بزدلی یا کنجوسی فطری طور پر ہوسکتی ہے کہ یہ عیوب ایمان کے خلاف نہیں لہذا مؤمن میں ہوسکتی ہیں۔

۳؎  کذاب فرماکر اس طرف اشارہ ہے کہ مؤمن گاہے بہ گاہے جھوٹ بول لے تو ہوسکتا ہے مگر بڑا جھوٹا ہمیشہ کا جھوٹا ہونا جھوٹ کا عادی ہونا مؤمن ہونے کی شان کے خلاف ہے،یہاں بھی وہ ہی مراد جو ابھی پہلی حدیث میں عرض کیا گیا یا مؤمن سے مراد کامل الایمان لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ بہت مسلمان جھوٹے ہوتے ہیں۔

۴؎ ارسال کی وجہ ابھی عرض کی گئی کہ صفوان ابن سلیم تابعی ہیں صحابی نہیں اور تابعی کا کسی حدیث کو حضور سے روایت کرنا ارسال ہے۔
Flag Counter