۱؎ مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں عبداللہ ابن عمرو واؤ سے ہے یہ ہی زیادہ صحیح ہے کیونکہ بعض نسخوں میں عبداللہ ابن عاص بھی آیا ہے اس نسخے میں شاید کاتب واؤ لکھنا بھول گیا۔(مرقات و اشعہ)
۲؎ تریاق یا دریاق ایک مرکب معجون ہے جسے یونانی حکیم ماغنیس نے ایجاد کیا اور اندردماغس نے اس کی تکمیل کی یہ دوا زہر خصوصًا سانپ کے زہر کے لیے بہت مفید ہے۔ تریاق بہت قسم کی ہوتی ہے: بعض قسموں میں سانپ کا گوشت اور شراب شامل کی جاتی ہے یہ قسم حرام بھی ہے نجس بھی اسی ہی کا استعمال حرام ہے وہ ہی یہاں مراد ہے جس تریاق میں ایسی چیزیں نہ ہوں وہ حلال ہے۔بعض نے فرمایا کہ ہر تریاق سے بچے کہ تریاق کا استعمال کرنے والا اللہ پر توکل نہیں رکھتا تریاق کو ہی مؤثر مانتا ہے۔(مرقات)
۳؎ تعویذ سے مراد زمانہ جاہلیت کے تعویذ ہیں جن میں شرکیہ الفاظ ہوتے تھے ان کا بنانا استعمال کرنا سب حرام ہے۔
۴؎ شعر سے مراد زمانہ جاہلیت کے اشعار ہیں جن کے مضامین فحش و بے حیائی کے ہوتے تھے۔اپنی طرف سے فرمانے کی قید اس لیے لگائی گئی کہ کسی اور کے بنائے ہوئے اشعار پڑھنا یا سیکھنا برا نہیں اگرچہ اشعار برے ہوں کیونکہ ان سے علوم میں بڑی مدد ملتی ہے آج دیوان متنبی دیوان حماسہ وغیرہ درس میں داخل ہیں اگرچہ ان کے مضامین گندے ہیں غرضکہ ان تینوں فرمانوں میں تفصیل ہے۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے عمدًا شعرکبھی نہ کہا ہاں کبھی بغیر قصد شعر آپ سے صادر ہوئے جیسے انا النبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب ہاں لبید وغیرہ کے اشعار سنے ہیں ان کی تعریف بھی فرمائی ہے حضور نے شعر گا کر ترنم سے کبھی نہ پڑھا اسکی بحث ہماری تفسیر "وَمَا عَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ"کی تفسیر میں ملاحظہ کرو۔