Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
391 - 975
حدیث نمبر 391
روایت ہے عبداللہ ابن مسعود کی بیوی زینب سے ۱؎ کہ عبداللہ نے میری گردن میں دھاگہ دیکھا تو فرمایا۲؎ یہ کیا میں بولی کہ یہ دھاگہ ہے جس میں دم کیا گیا ہے فرماتی ہیں کہ آپ نے اسے لے کر توڑ دیا پھر فرمایا اے عبداللہ کے گھر والو تم شرک سے بے نیاز ہو۳؎ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ دم تعویذات اور جادو شرک ہے ۴؎ تو میں نے کہا کہ آپ یہ کیوں کہتے ہیں میری آنکھ کھٹکی تھی اور میں فلاں یہودی کے پاس آجاتی تھی تو جب وہ اسے دم کردیتا تھا تو ٹھہر جاتی تھی ۵؎ تب عبداللہ نے کہا کہ یہ شیطانی کام ہی تھا وہ آنکھ میں اپنے ہاتھ سے چبھوتا تھا پھر جب دم کیا جاتا تو ٹھہر جاتا تھا ۶؎ تمہیں یہ کافی تھا کہ کہہ لیتی جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کہا کرتے تھے اے لوگوں کے رب تکلیف دور کردے اور شفاء دے تو ہی شفا دینے والا ہے نہیں ہے شفاء مگر تیری شفاء ۷؎ وہ شفاء دے جو بیماری نہ چھوڑے ۸؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ زینب بنت عبداللہ ابن معاویہ ہیں،ثقفی ہیں،اپنے خاوند کی طرح آپ بھی بارگاہِ نبوت میں بہت مقبول اور درجہ والی تھیں۔(مرقات)

۲؎ محدثین کی اصطلاح میں جب عبداللہ مطلقًا بولا جاوے تو اس سے مراد حضرت عبداللہ ابن مسعود ہوتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہیں۔

۳؎ یہاں دھاگہ سے مراد گنڈے کا نیلا دھاگہ ہے جس پر جادوگر جادو کا دم کرکے مریض کو پہناتے ہیں،چونکہ ان کے دم میں مشرکانہ الفاظ ہوتے ہیں بتوں کا تو سل وغیرہ اس لیے آپ نے اس گنڈے پہننے کو شرک قرار دیا لہذا حضرات صوفیاءکرام کے گنڈے جس میں وہ قرآنی آیات یا ماثورہ دعائیں پڑھ کر دم کرکے گرہ لگاتے ہیں بالکل جائز ہیں۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ اگر تعویذ گنڈے کو مؤثر حقیقی مان لیا جاوے رب سے نظر ہٹ جاوے تو شرک ہے مگر یہ فقیر کے نزدیک قوی نہیں۔اولًا تو اس لیے کہ حضرات صحابہ ایسا عقیدہ نہیں رکھ سکتے،دوسرے اس لیے کہ یہ بات تو دواؤں میں بھی ہے کہ اگر حکیم کو شافی الامراض اور دوا کو شفاء مستقل مان لے تو مشرک ہے،شافی اللہ  ہی ہے یہ چیزیں ذریعہ شفاء ہیں دوا ہو یا دعا۔ آل عبداللہ سے مراد حضرت ابن مسعود کے گھر والے ہیں بیوی ہوں یا اولاد۔

۴؎ تولہ ایک خاص جادو کا نام ہے جو زوجین کی محبت کے لیے کیا جاتا ہے لیکن اگر آیات قرآنیہ یا ماثورہ دعاؤں سے اسی محبت کا تعویذ کیا جاوے تو بالکل جائز ہے،حضرات صحابہ کرام نے دعاء ماثورہ کے تعویذات باندھے ہیں۔

۵؎ یعنی میرا تجربہ ہے کہ یہ درد چشم کے لیے مفید ہے اگر یہ شرک ہوتا تو اس میں یہ فائدہ کیوں ہوتا جیسے حرام دوا میں فائدہ نہیں ایسے ہی شرکیہ عمل میں اثر نہ چاہیے سبحان اللہ! کیسا باریک اعتراض ہے۔

۶؎ یعنی یہ بیماری نہ تھی بلکہ شیطانی اثر تھا کہ وہ تمہاری آنکھوں میں انگلی چبھوتا تھا جس سے تم کو درد محسوس ہوتا تھا اور اس یہودی کے دم کردینے پر وہ چبھونا بند کردیتا تھا جس سے تمکو آرام محسوس ہوتا تھا اس کایہ سارا عمل تمہارا عقیدہ بگاڑنے کے لیے تھا۔معلوم ہوا کہ شیطان انسان کو بیمار کرسکتا ہے،قرآن کریم فرماتاہے: "یَتَخَبَّطُہُ الشَّیۡطٰنُ مِنَ الْمَسِّ"جب سانپ بچھو بلکہ زہریلی دوائیں آدمی کو بیمارکرسکتی ہیں تو اگر شیطان بیمارکرے تو کیا بعید ہے،یہ سب کچھ رب تعالٰی کے اذن اس کے ارادے سے ہے۔

۷؎ یعنی حقیقی شافی الامراض تو ہی ہے جو مخلوق کو شفا بخشے وہ تیری عطا تیرے کرم سے ہے لہذا شافی الناس تو ہی ہے۔

۸؎ یہ دعا بہت اسنادوں سے بہت محدثین نے نقل فرمائی اور بہت ہی مجرب ہے علماء نے اسے بہت امراض میں مفید پایا۔
Flag Counter