| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم گردن اور کندھے کی رگوں میں پچھنے لگواتے تھے ۱؎ (ابوداؤد)اور ترمذی و ابن ماجہ نے یہ زیادہ کیا کہ آپ سترہ اور انیس اور اکیس کو فصد لیتے تھے ۲؎
شرح
۱؎ اخدعین گردن کی دو طرفہ رگوں کو کہتے ہیں،یہ رگیں حبل ورید کی ہی شاخیں ہیں۔اور گردن میں پیٹھ سے متصل پچھنے لگوانا بہت سی بیماریوں میں مفید ہے،ہم لوگوں کو چاہیے کہ بغیر طبیب حاذق کے مشورہ کے پچھنے ہرگز نہ کرائیں اہل عرب اور ہماری بیماریوں میں بڑا فرق ہے۔ ۲؎ یعنی آپ اکثر چاند کی ان طاق تاریخوں میں فصد لیتے تھے ان تاریخوں میں خون میں جوش نہیں ہوتا فصد سے زیادہ خون بہ جانے کا خطرہ نہیں ہوتا،تاریخوں کو ہمارے حالات میں بڑا دخل ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم ان تمام کیفیات سے واقف ہیں۔