| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن عثمان سے کہ کسی طبیب نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے مینڈک کے متعلق پوچھا ۱؎ جسے کسی دوا میں ڈالا جاوے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اس کے قتل سے منع فرمایا ۲؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یہ سوال مطلقًا مینڈک کے متعلق تھا دریائی ہو یا خشکی کا دونوں قسم کے مینڈکوں کی تاثیریں جداگانہ ہیں۔ ۲؎ فرمایا کہ مینڈک کو قتل نہ کرو خواہ دوا کے لیے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے یا بلا مقصد کے کیونکہ نہ تو یہ موذی ہے نہ حلال ہے نہ لذیذ۔حرا م،خبیث،غیرمفید جانور کا مارنا بلاوجہ ہی مارنا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مینڈک کھانا حرام ہے لہذا یہ حدیث احناف کی دلیل ہے،یہ بھی معلوم ہوا کہ مینڈک کسی بیماری میں مفید نہیں،بعض لوگ ایک خاص قسم کے مینڈک کا تیل قوت باہ کے لیے استعمال کرتے ہیں محض غلط و ممنوع ہے۔