Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
383 - 975
حدیث نمبر 383
روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس رات کے متعلق خبر دی جس میں آپ کو معراج کرائی گئی کہ آپ فرشتوں کی کسی جماعت پر نہ گزرے مگر انہوں نے عرض کیا ۱؎ کہ آپ اپنی امت کو پچھنے کا حکم دیں ۲؎ (ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
شرح
۱؎ یہاں امربمعنی مشورہ ہے یا بمعنی وجوبی حکم کیونکہ بعض بیماریوں میں فصد واجب ہوجاتی ہے۔اس حدیث سے دو مسئلہ معلوم ہوئے: کہ ایک یہ کہ فرشتوں کو اللہ تعالٰی نے بہت وسیع علم بخشا جس میں علم طب بھی ہے وہ حضرات بیماریوں اور دواؤں سے بھی واقف ہیں۔ دوسرے یہ کہ امت پر حاکم حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہیں نہ کہ فرشتے حتی کہ خدا تعالٰی بھی بندوں سے براہ راست کلام نہیں فرماتا نہ ان پر خود احکام فرماتا ہے جو کچھ کہتا ہے نبی کی معرفت سے کہتا ہے خدا کا فرمان نبی کی معرفت پہنچے تو سب کے لیے قابلِ عمل ہوتا ہے۔

۲؎ امت سے مراد ساری امت نہیں بلکہ خاص ملک کے خاص بیماریوں والے امتی مراد ہیں گرم ملک کے لوگوں کو فصد بہت مفید رہتی ہے لہذا اس سے یہ لازم نہیں کہ ہرمسلمان فصدکرلیا کرے بغیر فصد کے وہ مسلمان نہ ہو۔یہاں حجامت سے مراد فصد پچھنے،بھری سنگی سب ہی ہیں،بعض شارحین نے امتك سے مراد لی ہے قومك یعنی آپ اپنی قوم اہل عرب کو حکم دیں۔
Flag Counter