| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص دو چھوہارے ملا کر کھائے حتی کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہ حکم قحط سالی کے زمانہ میں ہے یا جب ہے جب کہ چھوہارے تھوڑے ہوں کھانے والے زیادہ ہوں،اگر یہ دو دو چھوہارے کھائے تو دوسرے ساتھی بھوکے رہ جائیں گے،اگر اکیلا کھارہا ہے یا کھانے میں وسعت ہے تو چاہے چار چار کھائے،یہ بھی خیال رہے کہ یہ ممانعت جب ہے جب کہ کھانا مشترکہ ہو یا کسی کے گھر سب کی دعوت ہو اوراگر کھانا اس کا اپنا ہے جیسے چاہے کھائے۔اس حدیث سے ساتھ کھانے سے بہت سے حکم نکل سکتے ہیں۔اگر چند شخصوں نے مل کر ہانڈی پکائی ہے اور ساتھ ہی کھارہے ہیں تو ہرشخص دوسروں کا خیال رکھ کر بوٹیاں کھائے۔