۱؎ اقعاع اس بیٹھک کو کہتے ہیں کہ چوتڑ زمین پر لگے ہوں دونوں پنڈلیاں کھڑی ہوں یعنی اوکڑوں۔یہ بیٹھک نماز میں مکروہ ہے کھاتے وقت بہتر کیونکہ یہ بیٹھک جلدی کے اظہار کے لیے ہوتی ہےنماز میں سکون کا اظہار چاہیے نہ کہ جلدی اور تیزی کا،کھانے میں جلدی اور تیزی تاکہ اس سے جلد فارغ ہوکر عبادت یا اورکسی دینی کام میں مشغول ہوجائیں۔مطیع فرمانبردار غلام اوکڑوں بیٹھ کر کھاتے ہیں کہ منہ میں نوالہ ہے کان لگے ہیں آقا کی آواز کی طرف کہ کب وہ بلائے اور کب یہ فورًا اٹھ کر جائے،نیز اوکڑوں بیٹھ کر کھانے سے زیادہ کھانا نہیں کھایا جاتا۔غرضیکہ کہ کھانے کی اس نشست میں بہت حکمتیں ہیں۔
۲؎ کھانے میں یہ تیزی اور جلدی یا تو سخت بھوک کی وجہ سے تھی یا کسی کام کی جلدی تھی یا وہ ہی حکمت تھی کہ جلد کھاکر دوسرے کام میں مشغول ہوجائیں کھانا مقصود للغیر ہے عبادت مقصود بالذات۔(مرقات و اشعہ)غرضیکہ اس جلدی میں بھی حکمتیں تھیں۔