Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
379 - 975
حدیث نمبر 379
روایت ہے حضرت ابوالدرداء سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ تعالٰی نے بیماریاں اور دوائیں اتاری ہیں اور ہر بیماری کے لیے دوا بنائی ۱؎ تو تم لوگ دوا کرو اور حرام سے دوا نہ کرو ۲؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی ہر بیماری کے لیے حلال و جائز دوا پیدا فرمائی ہےجیساکہ آئندہ عبارت سے معلوم ہورہاہے۔

۲؎  یعنی شراب پیشاب وغیرہ حرام چیزوں سے دوا  نہ کرو،طبرانی کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے حرام میں شفا نہیں رکھی،مسلم شریف میں ہے کہ حضور نے شراب کے متعلق فرمایا کہ وہ  دوا نہیں نری داءہے(بیماری) امام سبکی فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ"فِیۡہِمَاۤ اِثْمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنٰفِعُ لِلنَّاسِ"منسوخ ہے۔جب جوا شراب حرام کردیئے گئے تو ان کے نفع سلب ہوگئے۔(مرقات)فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے متعلق حاذق طبیبوں کا اتفاق ہوجاوے کہ اس کی دواء شراب کے سواء اور کوئی نہیں تو وہ اس مریض کے لیے بقدر ضرورت حرام نہیں رہتی حلال ہوجاتی ہے،پھر بھی شفا حرام میں نہ ہوئی۔(اشعہ)اس کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عرینہ والوں سے فرمانا ہے کہ تم اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو  وہاں وحی سے پیشاب میں شفا معلوم ہوئی،یہاں اجماع اطباء سے شفا معلوم ہوئی مگر اولًا تو حاذق طبیب کا  ملنا مشکل ہے پھر حاذقوں کا اجماع بہت ہی مشکل،میں نے بعض حاذق طبیبوں سے سنا کہ شہد بہترین بدل ہے شراب کا اگر کسی مرض کے لیے اطباء شراب بتاویں اس میں شہد استعمال کرو  وہ ہی  فائدہ ہوگا۔
حدیث نمبر 379
روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خادمہ سلمٰی رضی اللہ عنہا سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سر کے دردکی شکایت نہ کرتا مگر آپ فرماتے کہ پچھنے لگاؤ اور نہ کوئی پاؤں کے درد کی شکایت کرتا مگر آپ فرماتی ان میں خضاب کرو ۲؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎ آپ صفیہ بنت عبدالمطلب یعنی حضور کی پھوپھی کی لونڈی ہیں حضور کے غلام ابورافع کی بیوی صاحبہ ہیں حضرت فاطمہ زہرا کی اولاد اور حضرت ابراہیم ابن رسول اللہ کی دایہ ہیں جلیل القدر صحابیہ ہیں رضی اللہ عنہا۔

۲؎ ان حضرات کے سر کے درد زیادتی خون سے اورپاؤں کا درد گرمی سے ہوتا ہوگا۔معلوم ہوا کہ مرد کو پاؤں کے تلووں میں مہندی لگانا درست ہے جب کہ دفع گرمی کے لیے ہو۔یہاں خضاب سے مراد مہندی سے خضاب ہے۔
Flag Counter