۱؎ یعنی ہر بیماری کے لیے حلال و جائز دوا پیدا فرمائی ہےجیساکہ آئندہ عبارت سے معلوم ہورہاہے۔
۲؎ یعنی شراب پیشاب وغیرہ حرام چیزوں سے دوا نہ کرو،طبرانی کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالٰی نے حرام میں شفا نہیں رکھی،مسلم شریف میں ہے کہ حضور نے شراب کے متعلق فرمایا کہ وہ دوا نہیں نری داءہے(بیماری) امام سبکی فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ"فِیۡہِمَاۤ اِثْمٌ کَبِیۡرٌ وَّ مَنٰفِعُ لِلنَّاسِ"منسوخ ہے۔جب جوا شراب حرام کردیئے گئے تو ان کے نفع سلب ہوگئے۔(مرقات)فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے متعلق حاذق طبیبوں کا اتفاق ہوجاوے کہ اس کی دواء شراب کے سواء اور کوئی نہیں تو وہ اس مریض کے لیے بقدر ضرورت حرام نہیں رہتی حلال ہوجاتی ہے،پھر بھی شفا حرام میں نہ ہوئی۔(اشعہ)اس کی دلیل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا عرینہ والوں سے فرمانا ہے کہ تم اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیو وہاں وحی سے پیشاب میں شفا معلوم ہوئی،یہاں اجماع اطباء سے شفا معلوم ہوئی مگر اولًا تو حاذق طبیب کا ملنا مشکل ہے پھر حاذقوں کا اجماع بہت ہی مشکل،میں نے بعض حاذق طبیبوں سے سنا کہ شہد بہترین بدل ہے شراب کا اگر کسی مرض کے لیے اطباء شراب بتاویں اس میں شہد استعمال کرو وہ ہی فائدہ ہوگا۔