| مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم |
روایت ہے حضرت اسماء بنت عمیس سے ۱؎ کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے پوچھا کہ تم کس چیز سے جلاب لیتی ہو ۲؎ وہ بولیں شبرم سے۳؎ فرمایا گرم ہے گرم ہے فرماتی ہیں پھر میں نے سناء سے جلاب لیا۴؎ تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اگر کوئی چیز ہوتی جس میں موت سے شفاء ہو تو سناء میں ہوتی،ترمذی ابن ماجہ اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
شرح
۱؎ آپ پہلے حضرت جعفر ابن ابی طالب کے نکاح میں تھیں ان کے ساتھ ہجرت کرکے حبشہ گئیں وہاں ہی ان سے محمد عبداللہ اور عون پیدا ہوئے، پھر مدینہ منورہ ہجرت کرکے آئیں،حضرت جعفر کی شہادت کے بعد ابوبکر صدیق سے نکاح کیا ان سے محمد پیدا ہوئے،حضرت صدیق اکبر کی وفات کے بعد حضرت علی کے نکاح میں آئیں ان سے یحیی ابن علی پیدا ہوئے بڑی درجہ والی صحابیہ ہیں،چنانچہ آپ سے حضرت عبداللہ ابن جعفر،عمر ابن خطاب،عبداللہ ابن عباس،ابو موسیٰ اشعری،عبداللہ ابن شداد جیسے صحابہ کرام نے احادیث روایت کیں رضی اللہ عنہم اجمعین۔ ۲؎ یہ لفظ بنا ہے مشی سے بمعنی چلنا جلاب کو مشی اس لیے کہتے ہیں کہ اس سے پیٹ چلتے ہیں یا اس سے پینے والا آدمی بار بار چل کر پاخانہ جاتا ہے۔ ۳؎ شبرم حجاز کی خاص دوا ہے چنے کی دانوں کی طرح ہوتی ہے پکا کر اس کا پانی پینے سے دست لگ جاتے ہیں۔ ۴؎ سناء حجاز مقدس کی مشہور دوا ہے دست آور ہے بے ضرر ہے مکہ مکرمہ کی سنا اپنی خوبیوں میں بہت مشہور ہے اسی لیے اسے سناء مکی کہا جاتا ہے۔صفراوی سوداوی بلغمی،مادہ کو دستوں کے ذریعہ نکالنے میں بے مثال ہے سوداوی وسوسوں کی دافع ہے۔(اشعہ)بعض روایات میں سناء زیرہ کی بہت تعریف آئی ہے۔
حدیث نمبر 378
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے خبیث دوا سے منع فرمایا ۱؎ (احمد،ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)
شرح
۱؎ خبیث سے مراد حرام یا نجس ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد بدمزہ بدبودار دوائیں ہیں۔ (مرقات)یعنی مریض کو نہایت بد مزہ بدبودار دوائیں نہ کھلاؤ کہ اس سے زیادہ بیمار ہونے کا اندیشہ ہے خصوصًا نازک طبع لوگوں کے لیے۔