Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
374 - 975
حدیث نمبر 374
روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اپنے بیماروں کو کھانے پر مجبور نہ کرو ۱؎ کیونکہ انہیں اللہ تعالٰی کھلاتا ہے۲؎ (ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔
۱؎ بعض بیمار کھانے پینے سے نفرت کرتے ہیں تیمارداروں کو چاہیے کہ انہیں اس پر مجبور نہ کریں اس نہ کھانے میں ان کے لیے بہتری ہوتی ہے۔

۲؎ یعنی رب تعالٰی انہیں صبربھی دیتا ہے اور قدرتی قوت و طاقت بھی بخشتا ہے،بدن کی قوت ارادہ الٰہی سے ہے نہ کہ محض کھانے سے۔خیال رہے کہ یہ ہی الفاظ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے روزہ وصال کے لیے بھی ارشاد فرمائے ہیں وہاں کچھ مطلب ہی اور ہے۔(مرقات)وہاں حق تعالٰی حضور کو غیبی روزی عطا فرماتا ہے، بعض صوفیاء کرام نے خواب میں کوئی چیز کھائی بیدار ہونے پر شکم سیر تھے اور کھانے کی خوشبو منہ سے ہاتھوں سے آتی تھی اسی لیے حضور نے اپنے لیے فرمایا ابیت عند ربی یطعمنی ویسقینی وہاں ابیت عندربی ہے یہاں یہ عبارت نہیں ہے اس میں یہ ہی فرق ہے لہذا حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو اور آپ کے اس قرب خصوصی کو بیمار پر قیاس کرنا سخت غلطی ہے کہاں یہ مریض کہاں آقائے دو جہان۔
Flag Counter