Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
373 - 975
الفصل الثانی

دوسری فصل
حدیث نمبر 373
روایت ہے حضرت اسامہ ابن شریک سے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا یارسول اللہ کیا ہم دوا دارو کریں فرمایا ہاں اے اللہ کے بندو  دوا کرو کیونکہ اللہ نے کوئی بیماری نہیں پیدا فرمائی مگر اس کے لئے شفاء رکھی سواء ایک بیماری بڑھاپے کے ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی دوا علاج توکل کے خلاف نہیں جیسے بھوک کا علاج غذا ہے،پیاس کا علاج پانی ہے اگر دوائیں بیماریوں کا علاج ہوں تو کیا بعید ہے اسی لیے عباد اللہ فرماکر دوا کرنے کا حکم دیا تاکہ معلوم ہو کہ دوا عبودیت کے خلاف نہیں۔بڑھاپے کو بیماری اس لیے فرمایا گیا کہ بڑھاپے کے بعد موت ہے جیسے بیماری کےبعد موت ہوتی ہے،نیز بڑھاپے میں بہت بیماریاں دبالیتی ہیں۔

لطیفہ: ایک بوڑھے آدمی نے کسی طبیب سے کہا کہ میری نگاہ موٹی ہوگئی ہے طبیب نے کہا بڑھاپے کی وجہ سے،وہ بولا اونچا سننے لگا ہوں جواب ملا بڑھاپے کی وجہ سے،بولا کمر ٹیڑھی ہوگئی ہے کہا بڑھاپے کی وجہ سے، آخر میں بوڑھا بولا کہ جاہل طبیب تجھے بڑھاپے کے سواء کچھ نہیں آتا جواب ملا یہ بے موقعہ غصہ بھی بڑھاپے کی وجہ سے ہے۔(مرقات)
Flag Counter