۱؎ یعنی دوا علاج توکل کے خلاف نہیں جیسے بھوک کا علاج غذا ہے،پیاس کا علاج پانی ہے اگر دوائیں بیماریوں کا علاج ہوں تو کیا بعید ہے اسی لیے عباد اللہ فرماکر دوا کرنے کا حکم دیا تاکہ معلوم ہو کہ دوا عبودیت کے خلاف نہیں۔بڑھاپے کو بیماری اس لیے فرمایا گیا کہ بڑھاپے کے بعد موت ہے جیسے بیماری کےبعد موت ہوتی ہے،نیز بڑھاپے میں بہت بیماریاں دبالیتی ہیں۔
لطیفہ: ایک بوڑھے آدمی نے کسی طبیب سے کہا کہ میری نگاہ موٹی ہوگئی ہے طبیب نے کہا بڑھاپے کی وجہ سے،وہ بولا اونچا سننے لگا ہوں جواب ملا بڑھاپے کی وجہ سے،بولا کمر ٹیڑھی ہوگئی ہے کہا بڑھاپے کی وجہ سے، آخر میں بوڑھا بولا کہ جاہل طبیب تجھے بڑھاپے کے سواء کچھ نہیں آتا جواب ملا یہ بے موقعہ غصہ بھی بڑھاپے کی وجہ سے ہے۔(مرقات)