Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
36 - 975
حدیث نمبر 36
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ ہم مقام مرالظہران میں ۱؎ حضور کے ساتھ تھے بیلو کے پھل چن رہے تھے ۲؎ تو فرمایا کہ ان میں سے کالے کالے اٹھاؤ کہ وہ اچھے ہوتے ہیں۳؎ تو عرض کیا گیا کہ آپ بکریاں چراتے رہے ہیں۴؎ فرمایا ہاں اور نہیں ہے کوئی نبی مگر انہوں نے بکریاں چرائیں۵؎ (مسلم، بخاری)
شرح
۱؎ مرالظہران مکہ معظمہ سے ایک منزل فاصلہ پر ہے،اب اس کا نام وادہ قاطمہ ہے۔پہلے مدینہ منورہ کی راہ یہ منزل آتی تھی اب نہیں آتی۔(اشعہ)

۲؎ عرب کے جنگلوں میں یہ بیلو عام پایا جاتا ہے،اس کی مسواکیں عام استعمال ہوتی ہیں اسے عربی میں اراک، اردو میں بیلو،پنجابی میں دان کہتے ہیں،اس کے پھل کو عربی میں کبا ث کہتے ہیں۔ضلع ملتان میں یہ کباث عام طور پر فروخت ہوتے ہیں اور کھائے جاتے ہیں۔خیال رہے کہ جنگلی درخت،شکار کے جانور کسی کی ملک نہیں جو چاہے استعمال کرے اس لیے یہ حضرات یہ پھل توڑ رہے تھے۔

۳؎ یعنی سرخ پھل نہ اٹھاؤ نہ کھاؤ وہ کچا اور بدمزہ ہوتا ہے،سیاہ رنگ کے پھل پختہ مزیدار اور مفید ہوتے ہیں وہ کھاؤ۔

۴؎ یعنی بیلو کے پھلوں کے یہ راز عمومًا بکریاں چرانے والے کو معلوم ہوتے ہیں کہ وہ ہی عام طور پر جنگلوں میں پھرتے گھومتے ہیں کیا حضور بھی یہ عمل فرماتے رہے ہیں۔خیال رہے کہ حضرات صحابہ کا یہ سوال طریقہ علم کے متعلق ہے یعنی حضور نے یہ راز وحی الٰہی سے جانا ہے یا تجربہ سے بھی لہذا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرات صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم کے قائل نہ تھے۔

۵؎ یعنی حضرات انبیاءکرام عمومًا بادشاہ امراءنہیں ہوتے مساکین ہوتے ہیں عام طور پر انہوں نے بکریاں چرائی ہیں۔چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کے بکریاں چرانے کا واقعہ قرآن کریم میں مذکور ہے،ایوب علیہ السلام نے درزی اور زکریا علیہ السلام نے بڑھئی کے پیشے کیے۔بکریاں چرانے سے دل میں مسکینی،لوگوں سے علیحدگی،غریبوں سے محبت،ملکی سیاست،خلوت میں لذت نصیب ہوتی ہے،بکریوں کے سنبھالنے سے انسانوں کے سنبھالنے کا طریقہ آجاتا ہے۔

حکایت: ایک دن موسیٰ علیہ السلام سے رب تعالٰی نے فرمایا کہ اے موسیٰ کیا تمہیں خبر ہے کہ تم کو نبوت کیوں دی گئی،عرض کیا مولیٰ تو علیم و خبیر ہے،فرمایا کہ ایک دن تم بکریاں چرا رہے تھے کہ ایک بکری بھاگ گئی تم اس کے پیچھے بہت دور بھاگے بڑی مشقت سے اسے پکڑا تم نے اس پر غصہ نہ کیا بلکہ اسے کندھے پر اٹھاکر لائے،اس شفقت خلق کو دیکھ کر تم کو نبوت عطا کی گئی۔(مرقات و اشعہ)
Flag Counter