Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
368 - 975
حدیث نمبر 338
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اللہ کے نزدیک سخت عذاب والے تصویر بنانے والے ہیں ۱؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یہاں مصورین سے مراد بت ساز بت تراش ہیں جو پرستش کے لیے بت بنائیں یا وہ مصور مراد ہیں جو رب تعالیٰ کے مقابلہ کے لیے تصویر سازی کریں یہ دونوں کافر ہیں اور کافر واقعی سخت عذاب مستحق ہیں اور اگر مصورین سے مراد عام فوٹو گرافر ہیں تو یہ فرمان عالی ڈرانے کے لیے ہے تاکہ لوگ اس حرکت سے باز آجاویں ورنہ ایسے لوگ فاسق ہیں اور فاسق کا عذاب کافر سے ہلکا ہے یا اس صورت میں ناس سے مراد مسلمان ہیں یعنی گنہگار مسلمانوں میں سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر سازوں کو ہوگا۔تصویر سے مراد جاندار کی تصویر ہے جیساکہ اوپرگزر گیا اور آگے بھی آرہا ہے۔
حدیث نمبر 368
روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے نظر بد سے دم کرنے کا حکم دیا ۱؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی اجازت ہے لہذا یہ حدیث یا تو دم کی ممانعت کی احادیث کی شرح ہے یا ان کی ناسخ یعنی وہ دم ممنوع ہے جس میں مشرکانہ الفاظ ہوں،قرآنی آیات اور احادیث کی دعاؤں سے دم جائز ہے ان کی تاثیر برحق ہے۔معلوم ہوا کہ عورتیں بھی دم کرسکتی ہیں مگر مردوں پر دم کرنا ہو تو پردہ کا خیال ضروری ہے بچوں،عورتوں پر دم میں آزادی ہے۔العین سے مراد یا آنکھ دکھنا ہے یا نظر لگنا،مشکوۃ شریف کے بعض نسخوں میں نسترقی نون سے ہے جمع متکلم۔علماء فرماتے ہیں کہ بدنظری سے بچنے کے لیے یہ آیت کریمہ اکسیر ہے "وَ اِنۡ یَّکَادُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا لَـیُزْ لِقُوۡنَکَ بِاَبْصٰرِہِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ"۔(مرقات)
Flag Counter