Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
367 - 975
حدیث نمبر 337
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ رب تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو میری مخلوق کی طرح گھڑنے بنانے لگے ۱؎ تو انہیں چاہیے کہ ایک ذرہ پیدا کریں یا ایک دانہ یا ایک جو پیدا کریں ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی اس تصویر سازی میں اللہ تعالیٰ سے تشبیہ یا اس سے مقابلہ کی بو ہے لہذا اس سے بچے یہ حکم اطاعت ہے ہم حکم کے بندے ہیں بے جان کی تصویریں بنانا درست ہے جاندار کی صورتیں بنانا حرام ہم کو بسرو چشم قبول ہے۔

۲؎  خیال رہے کہ پرستش کے لیے بت بنانا یا اللہ تعالیٰ کے مقابلہ کے لیے تصویریں بنانا کفر ہے،اگر یہ دونوں خیال نہ ہوں تو جاندار کی تصویریں بنانا حرام ہے کفر نہیں۔پرستش کے چاند سورج کے فوٹو،پیپل کے درخت کا مجسمہ بنانا بھی حرام ہے کہ یہ بت سازی ہے۔خیال رہے کہ غیر جاندار چیزوں میں بندے کے کسب کو دخل ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ یہ باغ میرا لگایا ہوا ہے،یہ کھیت میرا اگایا ہوا ہے مگر جاندار چیز میں کسی کے کسب کو دخل نہیں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ چڑیا میری بنائی ہوئی ہے اس لیے جاندار کی تصویر سازی جرم ہے غیر جاندار کی نہیں۔(مرقات)
حدیث نمبر 367
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دم کرنے کی اجازت دی  نظر بد ڈنک اور اندھوریوں میں ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎ اولًاحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک سے منع فرمادیا تھا  لوگ اس سے مطلقًا پر ہیز کرنے لگے ،پھر حضور انور نے    آیا ت قرآنیہ دعاء ماثورہ اور تمام ان دعاؤں سے دم کی اجازت دیدی جن میں شرکیہ الفاظ نہ ہوں،یہ حدیث اجازت کی احادیث سے ہے۔عین نظر بدخواہ انسان کی ہو یا جن کی،حمہ ڈنک زہریلا جیسے بھڑ،بچھو،سانپ، نملہ،باریک دانہ جو پسلیوں پر نمودار ہوکر تمام جسم پر پھیل جاتے ہیں۔بعض نے اس سے خسرہ مراد لی ہے، بعض نے اندھوییں،بعض نے اس کے علاوہ اور یہ دانہ چونکہ چھوٹی چیونٹی کے مشابہ ہوتا ہے اس لیے اسے نملہ کہتے ہیں۔
Flag Counter