Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
362 - 975
حدیث نمبر 362
روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا بولا کہ میرے بھائی کا پیٹ چل رہا ہے ۱؎ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اسے شہد پلادو ۲؎ اس نے پلایا پھر آیا بولا کہ میں نے اسے پلایا اس کے دست بڑھ ہی گئے حضور نے اسے تین بار یہ ہی فرمایا ۳؎ وہ پھر آیا چوتھی بار تو فرمایا اسے شہد پلاؤ وہ بولا کہ میں نے اسے پلایا مگر اس نے پیٹ چلنا ہی بڑھایا تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ اللہ سچا ہے اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے ۴؎ اس نے پھر شہد پلایا تو آرام ہوگیا ۵؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی دست آرہے ہیں اردو میں بھی دست آنے کو پیٹ چلنا کہا جاتا ہے وہ ہی محاورہ یہاں استعمال ہوا۔

۲؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں خالص شہد مراد ہے۔ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ دو شفاؤں کو مضبوطی سے پکڑو شہد اور قرآن۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ لا علاج بیمار اپنی بیوی سے اس کے مہر کا پیسہ لےکر اس سے دوا خریدے اس میں بارش کا پانی ملا کر استعمال کرے ان شاء اللہ شفا ہوگی کہ بارش کا پانی مبارک ہے"مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَکًا"اور بیوی کے مہر کے پیسہ برکت والا"فَکُلُوۡہُ ہَنِیۡٓــًٔا مَّرِیۡٓــًٔا"۔(مرقات)

۳؎ حضور انور جانتے تھے کہ اس کے پیٹ میں لیس دار بلغمی فضلات جمع ہوگئے ہیں جنہیں شہد خارج کررہا ہے اس کے خارج ہوجانے کے بعد دست بند ہوجائیں گے۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے روزانہ ایک بار بقدر ضرورت شہد پلانے کا حکم دیا اس لیے وقت اور مقدار کا ذکر نہ فرمایا۔(مرقات)جیسا مریض ویسی مقدار دوا۔

۴؎ یعنی رب تعالٰی نے شہد کے متعلق فرمایا:"فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ"رب تعالٰی سچا اس کا یہ فرمان سچا تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے اس شہد سے شفا حاصل نہ کرنے میں خطا کار ہے دوا مفید ہے قصور پیٹ میں ہے کہ اس سے شفاء حاصل نہیں کرتا یا یہ مطلب ہے کہ مجھے رب نے وحی فرمائی ہے کہ تیرے بھائی کے پیٹ کو شہد سے شفا ہوگی ابھی اس کا ظہور نہ ہونا اس میں پیٹ کا قصور ہے رب تعالٰی کی یہ خبرسچی ہے۔واللہ اعلم!

۵؎ طب میں شہد کو دست آور مانا گیا ہے مگر یہاں اس سے دست بند ہوئے یا تو حضور کی برکت سے لہذا ہم لوگ دستوں میں شہد استعمال نہ کریں یا اس لیے کہ اس شخص کے دست بدہضمی اور فاسد مادہ کے معدے میں جمع ہوجانے کی وجہ سے تھے اس فاسد مادہ کا نکال دینا ہی ضروری تھا اس لیے پہلی تین بار میں شہد سے دست زیادہ ہوئے جب مادہ سارا نکل گیا دست ٹھہر گئے۔پیٹ جھوٹے ہونے کے یہ ہی معنی ہیں کہ اس میں خراب مادہ بہت جمع ہوگیا ہے،بہرحال حضور کی تجویزکردہ دوا بہت حکمتوں پر مبنی ہے۔(اشعہ و مرقات) دوسرے طبیب اپنے فن کو حضور پر قیاس نہ کریں ان کی طب ظنی ہے حضور کی تجویزیں یقینی ہیں وحی الٰہی سے تائید شدہ۔(اشعہ)
Flag Counter