۱؎ یعنی ایک بار تیر گرم کرکے زخم پر داغ لگایا مگر پھر ورم آگیا تو دوبارہ تیر سے داغ لگادیا گیا اس سے بھی داغ کا جواز ثابت ہوا۔اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب کو ہر فن کا ماہر بنایا ہے کہ یعنی داغ لگانا ہر شخص کا کام نہیں اس کے لیے بڑے کمال کی ضرورت ہے۔
۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ آپریشن بڑا پرانا علاج ہے زمانہ نبوی میں اس کی اصل موجودتھی چیر پھاڑ رگ کی کاٹ چھانٹ یہ ہی آپریشن کی حقیقت ہے،چونکہ رگ کٹ جانے سے تمام خون نکل جانے کا اندیشہ تھا اس لیے زخم کو آگ سے جھلسا دیا گیا تاکہ خون بند ہوجاوے،اب خون بند کرنے کے لیے ٹیکہ لگایا جاتا ہے ٹیکہ یہاں سے ماخوذ ہوسکتا ہے۔