Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
35 - 975
حدیث نمبر 35
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن جعفر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ککڑی کے ساتھ کھجور کھاتے دیکھا ۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎  آپ عبداللہ ابن جعفر ابن ابی طالب ہیں یعنی حضرت علی کے بھتیجے،آپ کی والدہ اسماء بنت عمیس ہیں،حبشہ میں آپ کی ولادت ہوئی،وہاں اسلام میں پہلے آپ ہی پیدا ہوئے،مدینہ منورہ میں   ۸۰ھ؁  میں وفات ہوئی،نوے سال عمر شریف ہوئی،آپ بڑے ہی سخی تھے اس سے آپ کا لقب بحرالجود پڑ گیا تھا،آپ سے بہت حضرات نے احادیث کی روایت کی۔(اکمال)

۲؎ کھجور طبعًا گرم و خشک ہے اور ککڑی سرد و تر،ان دونوں کے ملنے سے اعتدال ہوکر فائدہ بڑھ جاتا ہے۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ککڑی اور کھجور کو کبھی تو معدہ میں جمع فرمایا کہ بیک وقت کبھی کھجور کھائی کبھی ککڑی اورچبانے میں جمع فرمایا کہ کھجور منہ شریف میں رکھ لی اور ککڑی بھی کتر لی اور دونوں ملاکر چبائیں،کبھی کھجور اور تربوزبھی ملاکر کھائے ہیں،کھجور ککڑی ملاکر کھانا صحت کے لیے بہت ہی مفید ہے۔حضرت ام المؤمنین عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ میری رخصتی حضور انور کے پاس ہونے والی تھی مگر میں بہت کمزور تھی میری ماں نے مجھے کھجور ککڑی ملاکر کھلائیں میں چند روز میں موٹی ہوگئی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک وقت چند کھانے کھانا جائز ہیں۔جن روایت میں اس سے ممانعت آئی ہے وہاں اس کی عادت ڈالنا مراد ہے یعنی عادت رکھے ایک کھانے کی مگر کبھی کبھی چند کھانے بھی کھالے تو حرج نہیں،اللہ تعالٰی کی نعمتوں کا جمع کرنا ممنوع نہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور تو مرغوب تھی ہی ککڑی بھی بہت مرغوب تھی۔(مرقات و اشعہ)بعض بزرگانِ دین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فاتحہ میں دوسرے کھانوں کے ساتھ کھجوریں اور ککڑیاں اور تربوز بھی رکھتے ہیں ان کے اس عمل کا ماخذ یہ حدیث ہے۔
Flag Counter