Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
356 - 975
حدیث نمبر 356
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ ہر بیماری کی دوا ہے ۱؎ جب دوا بیماری تک پہنچادی جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے اچھا ہوجاتا ہے ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی دوا بیماری دور کرنے میں مؤثر تو ہے مگر مستقل مؤثر نہیں بلکہ ارادۂ الٰہی کے تابع ہے وہ چاہے تو دواء کو مؤثر بنادے۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ جب اللہ تعالٰی کسی بیمار کی شفا نہیں چاہتا تو دواء اور مرض کے درمیان ایک فرشتے کے ذریعے آڑ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے دواء مرض پر واقع نہیں ہوتی،جب شفاء کا ارادہ ہوتا ہے تو وہ پردہ ہٹا دیا جاتا ہے جس سے دواء مرض پر واقع ہوتی ہے اور شفاء ہوجاتی ہے۔(مرقات)ہم نے بہت بیماروں کو دیکھا کہ دواء ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتی بعد موت ان کے منہ سے دوا نکلتی ہے یہ ہے وہ آڑ۔

۲؎  احمد نے بروایت حضرت علی مرفوعًا روایت کیا کہ ہر مرض کی دواء ہے اور گناہ کی دواء توبہ ہے۔خیال ہے کہ دفع مرض کے لیے دواءکرنا مستحب ہے مگر دفع بھوک کے لیے کھانا اور دفع پیاس کے لیے پانی پینا فرض ہے لہذا اگر کوئی بیمار بغیر دواء کیے مرجائے تو گنہگار نہیں لیکن اگر کوئی بھوکا پیاسا بغیر کھائے پیئے مرجائے،مرن برت یا بھوک ہڑتال کرکے مرے تو حرام موت مرے گا کیونکہ دواء سے شفا میں یقین نہیں مگر کھانے سے دفع بھوک میں اور پانی سے دفع پیاس میں یقین یا گمان اغلب ہے دواءکرنا توکل کے خلاف نہیں بلکہ توکل کی قسم ہے۔
Flag Counter