Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
355 - 975
کتاب الطب و الرقی

دواؤں اور دعاؤں کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  طب ط کے فتح سے بھی ہے کسرہ سے بھی پیش سے بھی مگر فتح مشہور ہے اس کے معنی علاج و دوا۔ طب ط کے فتح سے اس کے معنی جادو بھی ہیں اس لیے مسحور کو مطبوب کہتے ہیں۔ علاج کے تین ارکان ہیں:دفع مرض،حصول صحت،دفع اسباب مرض۔طب جسمانی قرائن اور طب روحانی قرآن سے ہے اس لیے طب کے اوراق جمع فرمائے گئے۔رقی جمع ہے رقیۃ کی بمعنی جھاڑپھونک۔ناجائز یا شرکیہ الفاظ سے دم کرنا حرام یا کفر ہے،جائز دعائیں پڑھ کر دم کرنا سنت ہے،جس دم جھاڑ پھونک کے معانی معلوم نہ ہوں انہیں نہ پڑھے۔اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و سلم کو جہاں اور علوم بخشے ہیں وہاں علم طب بھی عطا فرمایا بذریعہ وحی کے بھی اور بذریعہ تجربہ وغیرہ کے بھی۔حضرت سلیمان علیہ السلام ہر درخت و گھاس سے پوچھا کرتے تھے کہ تجھ میں کیا تاثیر ہے اگر وہ اچھی تاثیر بتاتی تو اس کی کاشت بھی کراتے تھے اور اس کا نام و فوائد لکھ بھی لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ طب کی تدوین آپ نے بھی کی۔واللہ اعلم!(مرقات)
حدیث نمبر 355
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ اللہ نے کوئی بیماری نہ بنائی مگر اس کے لیے شفا بھی اتاری ۱؎ (بخاری)
شرح
۱؎ موت اور بڑھاپا ان کے سواء تمام امراض کی دوائیں ہیں۔جب اللہ کسی کو شفاء دینا چاہتا ہے تو طبیب کا دماغ اس کی دوا تک پہنچ جاتا ہے ورنہ طبیب کا دماغ الٹا چلتا ہے علاج غلط کرتا ہے۔مصرع! چوں قضا آید طبیب آبلہ شود۔
Flag Counter