Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد ششم
354 - 975
حدیث نمبر 354
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک انصاری قوم کے گھر تشریف لے جاتے تھے ان کے گھروں سے دور تھا یہ ان گھر والوں کو گراں گزرا تو بولے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آپ فلاں کے گھر تشریف لے جاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے ۱؎ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اس لیے کہ تمہارے گھر میں کتا ہے۲؎  وہ بولے ان کے گھر میں بلی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ بلی تو درندوں میں سے ہے ۳؎(دارقطنی)
شرح
۱؎ یعنی حضور انور ہمارے گھر راستہ میں چھوڑکر دوسرے دور والے گھروں میں تشریف لے جاتے ہیں کیا حضور ہم سے ناراض ہیں آپ کی ناراضی تو حق تعالیٰ کی ناراضی ہے پھر ہم کس کے ہوکر رہیں جسم سے جان آنکھ سے نور ناراض ہوجائے تو نہ جسم کام کا نہ آنکھ کام کی۔

۲؎ یعنی تمہارے گھر بلاضرورت کتا پالا ہواہے وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے لہذا ہم بھی وہاں نہیں آتے یہ انتہائی ناراضی کا اظہار ہے۔معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء،حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی طبیعت شریف فرشتوں کی سی طبیعت ہے۔

۳؎  یہ جواب عالی یا تو بطور استفہام انکاری ہے یعنی کیا بلی کتے کی طرح درندہ ہے یعنی یہ درندہ نہیں بلکہ گھر میں چوہوں وغیرہ سے حفاظت کا ذریعہ ہے لہذا اس کا حکم کتے کا سا نہیں۔
Flag Counter